اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ’فوجی جارحیت‘ کا بھرپور جواب دے گااور تصادم کی صورت میں خطے میں ’دشمن طاقت‘ سے تعلق رکھنے والے تمام اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کو ’اگلے 10 دنوں میں‘ معلوم ہو جائے گا کہ آیا امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا اس کے خلاف فوجی کارروائی۔
- ایران پر ’محدود فوجی حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن طاقت کے اڈوں، سہولیات اور اثاثوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا‘
- دنیا 10 دن میں جان جائے گی کہ ایران معاہدے پر راضی ہوتا ہے یا امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
- برطانیہ نے امریکہ کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی
- صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امن بورڈ کے اجلاس سے خطاب
- پانچ ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہکیا ہے
ایران پر ’محدود حملے‘ کے امکان کی رپورٹس اور تہران کی تنبیہ: ’تصادم کی صورت میں دشمن کے اڈے، اثاثے جائز ہدف تصور ہوں گے‘