’چھوٹا پختونخوا‘: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اُس گاؤں کا سفر جہاں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پختون آباد ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے 60 کلومیٹر دور ضلع اننت ناگ میں ایک پہاڑی پر واقع گاؤں چکِ اِچھر داس میں ایک گول دائرے میں بیٹھے اور سروں پر پگڑیاں باندھے افراد کو دیکھیں تو گماں ہوتا ہے کہ آپ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں موجود ہیں اور یہ افراد یہاں کسی جرگے میں شریک ہیں۔
تصویر
BBC
19ویں صدی کے آغاز میں خیبرپختونخوا اور افغانستان سے پختون نقل مکانی کر کے چک اچھر داس پہنچے تھے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر سے 60 کلومیٹر دور ضلع اننت ناگ میں ایک پہاڑی پر واقع گاؤں چکِ اِچھر داس میں ایک گول دائرے میں بیٹھے اور سروں پر پگڑیاں باندھے افراد کو دیکھیں تو گماں ہوتا ہے کہ آپ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں موجود ہیں اور یہ افراد یہاں کسی جرگے میں شریک ہیں۔

بی بی سی اُردو کی ٹیم جب یہاں پہنچی تو واقعی ایک جرگہ جاری تھا لیکن فرق صرف یہ ہے کہ یہ خیبر پختونخوا نہیں ہے۔ یہاں موجود افراد نے بتایا کہ وہصرف جرگے کی روایت ہی نہیں بلکہ دیگر پختون روایات کو زندہ رکھنے کے لیے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں۔

اس جرگے کی قیادت کرنے والے ماسٹر بشیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے پختون روایات کا دامن نہیں چھوڑا۔ ہمارے یہاں میاں، بیوی کا جھگڑا ہو، زمینوں کا تنازع ہو یا کوئی اور سماجی مسئلہ، ہم جرگے کے ذریعے اسے حل کر لیتے ہیں اور فریقین اسے تسلیم بھی کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں گذشتہ ایک صدی کے دوران کوئی بھی معاملہ پولیس، تھانے یا عدالت نہیں پہنچا ہے۔‘

مگر یہ پختون انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کیسے پہنچے؟

تصویر
BBC
اس گاؤں میں خیبرپختونخوا کے گلوکار کافی مشہور ہیں اور ان کے گانے گائے جاتے ہیں

ماسٹر بشیر خان کے مطابق 19ویں صدی کے آغاز میں اُس وقت کے ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے اس گاؤں (چکِ اِچھر داس) کے ایک مقامی جاگیر دار راجہ اِچھر داس کو ’ون تراگ‘ نامی علاقہ جاگیر میں دیا تھا۔

’ہزاروں کنال پر مشتمل یہ علاقہ نہایت زرخیز تھا، لہٰذا راجہ اِچھر داس نے یہاں سیب، اخروٹ اور بادام کے علاوہشالی کی کاشت کا فیصلہ کیا۔‘

ماسٹر بشیر کا کہنا ہے ’چونکہ اُن دنوں انڈیا متحدہ تھا اور سارا کاروبار راولپنڈی روڈ کے ذریعے ہوتا تھا، اسی لیے موجودہ خیبر پخنوخوا اور افغانستان کے بعض علاقوں سے یہاں تاجر اور مزدور بھی آتے تھے۔ راجہ اِچھر داس نے درجنوں پختون مزدوروں کو کاشت کاری پر لگایا اور چند برسوں کے اندر ہی انھیں کہا گیا کہ وہ اپنے خاندان کو بھی یہاں بُلا سکتے ہیں۔‘

’جب یہاں پختونوں کی آبادی میں اضافہ ہونے لگا تو راجہ نے ایک وسیع گاؤں پختونوں کو دے دیا، جنھوں نے اس گاؤں کا نام راجہ کے نام پر ہی چکِ اِچھر داس رکھا۔‘

Kashmir
BBC
ماسٹر بشیر احمد خان پختون بچوں کو پڑھاتے ہوئے

اس علاقے کے ایک اور رہائشیمحمد غفران خان کا کہنا ہے کہ سنہ 1920 کے اوائل میںپشاور، کوہاٹ، ہزارہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے درجنوں خاندان نقل مکانی کر کے کشمیر کے مختلف علاقوں میں مقیم ہوئے تھے۔

’چکِ اِچھر داس میں ہماری منظم آبادی ہے۔ ان ہی خاندانوں کی نسلیں اب یہاں اور دوسرے مقامات پر آباد ہیں۔ یہاں تو ہماری اکثریت ہے، لیکن کشمیر کے علاقوں سرینگر، پلوامہ، کشتواڑ اور گاندربل اضلاع میں بھی ہمارے لوگ ہیں، جن کے ساتھ ہمارے رشتے بھی ہیں اور مراسم بھی۔‘

پختون کلچر کی حفاظت

تصویر
BBC

چکِ اِچھر داس کے نوجوان تو جینز اور جیکٹ ہی پہنتے ہیں لیکن یہاں کے بزرگ اب بھی سر پر خیبری عمامہ پہنتے ہیں، جسے وہ مقامی طور پر ’پگ‘ کہتے ہیں۔

ماسٹر بشیر کہتے ہیں کہ ’پٹھانوں میں پگڑی کی بہت اہمیت ہے۔ ہمارے بزرگ پیغمبر اسلام کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے تھے کہ قران شریف پر حدیث یا فقہ کی کتاب رکھنا ممنوع ہے، لیکن قران پر پگ رکھی جا سکتی ہے۔ یہ غیرت اور شناخت کی علامت ہے جسے پیغمبر اسلام نے نہایت اہمیت دی ہے۔‘

اس چھوٹی سی پختون آبادی کے بزرگوں نے اپنی ثقافت کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

ماسٹر بشیر اور دوسرے پڑھے لکھے لوگ اپنے ہی گھروں میں چھوٹے بچوں کو پشتو زبان پڑھاتے ہیں۔

ماسٹر بشیر کہتے ہیں کہ ’ہم تو اب باقاعدہ کشمیری ہیں۔ لیکن پشتو زبان اور پشتو روایات ہماری جان ہیں، کچھ بھی ہو ان روایات اور اپنی شناخت کو ہم ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔‘

ماسٹر بشیر کے گھر میں قران اور حدیث کی کتابوں کے پشتو ترجمے بھی ہیں، جنھیں وہ نوجوانوں کو پڑھاتے ہیں۔

گاؤں کے ایک نوجوان محمد توصیف خان کہتے ہیں کہ پختون آبادی اپنی شناخت، روایات اور زبان کے بارے میں نہایت حساس ہے۔

’پہلے تو بچہ شروع میں ہی والدین سے پشتو سیکھتا ہے، پھر ہم نجی کلاسز کا بھی اہتمام کرتے ہیں تاکہ زبان درست بولی جائے۔‘

توصیف کہتے ہیں سوشل میڈیا نے انھیں اپنی ثقافت کی حفاظت کرنے میں بہت مدد کی ہے۔

’شادی بیاہ پر ہم پشتو گانے ہی گاتے ہیں، لیکن اب فیس بُک اور یوٹیوب کی مدد سے ہم خیبر پختونخوا کے گلوکاروں کو بھی سُنتے ہیں، اُن سے متاثر ہو کر ہم بھی وہ گانے گاتے ہیں۔ یہاں نازیہ اقبال، رحیم شاہ، غزالہ جاوید، گلزار عالم، اقبال خٹک وغیرہ بہت مقبول ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ پوری دنیا میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ پشتو بولتے ہیں۔

’سوشل میڈیا کی مدد سے اس زبان کا فروغ اور اس کی حفاظت زیادہ آسان ہو گئی ہے۔‘

Kashmir
Getty Images
گاؤں چک اچھر داس کا منظر

یہاں کے مقامی گلوکار محمد طیب خان کہتے ہیں کہ فصل کاٹنے اور باغوں سے سیب اُتارنے کے بعد ان ہی باغات میں پشتو موسیقی کی محفلیں سجتی ہیں، جہاں پشتو گانے گائے جاتے ہیں جس کے دوران لوگ تلواریں اور رومال لہراتے ہوئے پختون ثقافت کا مشہور رقص کرتے ہیں۔

طیب کا کہنا ہے کہ ان کے بزرگوں نے یہ روایت اسی لیے قائم کی تھی تاکہ نئی نسل اپنے تمدن اور اپنی زبان کو بھول نہ پائے۔

’زبان اور موسیقی ہی نہیں، کھانے پینے میں بھی ہم اپنے کلچر کو نہیں بھولے ہیں۔ یہاں بھی پختونخوا کی طرح ہی چپلی کباب، شِنواری پلاؤ اور دم پخت پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ رمضان کے دوران تو ہم غیر پٹھان پڑوسیوں میں افطار کے وقت شنواری پلاؤ تقسیم کرتے ہیں۔‘

زبان کے بارے میں پختونوں کی حساسیت بیان کرتے ہوئے محمد غفران خان نے بتایا: ’ہم لوگ شادیاںاپنے ہی کنبوں میں کرتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی غیرپختون کے یہاں شادی ہو جائے، لیکن مزے کی بات ہے کہ چاہے وہ غیر پختون لڑکا ہو یا لڑکی، بعد میں وہبھی ٹھیٹ پشتو بولنے لگتے ہیں۔‘

’اُدھر کوئی رشتہ دار ہو گا بھی تو ہمیں معلوم نہیں‘

سنہ 1947 میں برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد کشمیر میں آباد ہونے والے پختونوں کا رابطہ ایل او سی کی دوسری جانب پاکستان میں موجود اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مستقل طور پر کٹ گیا۔

محمد غفران کہتے ہیں کہ ’میرے پڑداد بارہمولہ سے پیدل جاتے تھے اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مل کر آتے تھے، لیکن تقسیم کے بعد سرحدیں عبور کرنا مشکل ہو گیا۔ نئی نسل ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ وہاں رابطے میں ہو لیکنیہاں کے حالات آپ کو معلوم ہیں۔ اس لیے ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی شناخت اور زبان کا تحفظ کر رہے ہیں۔ عمومی طور پر میں کہوں گا اگر ہمارے رشتہ دار اس وقت وہاں (پاکستان میں) ہوں بھی، تو ہمیں کون بتائے گا؟ ہمارا کوئی رابطہ نہیں۔‘

پختون مہاجرین کی گذشتہ نسلوں میں تعلیم کی شرح بہت کم تھی۔ تاہم گذشتہ چند دہائیوں میں ان کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہو چکی ہے۔اب یہ لوگ انڈین آئین میں انڈیا کے درجہ فہرست قبائل کے لیے رکھے گئے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ماسٹر بشیر کہتے ہیں کہ ’ہمیں ایک نسلی گروپ تو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اگر ملک میں قبائل کو جاب ریزرویشن حاصل ہے تو ہمیں بھی اس سے مستفید ہونا چاہیے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US