پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت اب تک افغانستان میں ’37 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے‘ جس میں افغان طالبان کے 331 اہلکار ہلاک اور 104 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘
- پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمعے کی شب افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف مزید فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
- امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے‘
- پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ’اعلان جنگ نہیں‘ مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
- اب تک پاکستان اور افغانستان نے اِن جھڑپوں میں اپنے 12، 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے، اُن پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں
- افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں‘
- ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے تیار ہے
- اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے افغانستان اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں
پاکستان کا افغانستان میں ’37 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ: افغان طالبان کے 331 اہلکار ہلاک اور 104 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں