اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں کرنل رینک کے ایک فوجی افسر کی احتجاج کرنے والے طلبہ سے ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد افسر نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست دے دی ہے۔
وفاقی دارالحکومت کی پولیس کا کہنا ہے کہ سرحد یونیورسٹی (اسلام آباد کیمپس) میں طلبہ کے مظاہرے کے دوران ایک طالبعلم پر تشدد کرنے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے پاکستانی فوج کے افسر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس حمزہ ہمایوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے آرمی افسر کو حفاظتی تحویل میں لے کر انھیں فوج کے اعلیٰ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں اُن کے خلاف سمری کورٹ مارشل کا ٹرائل شروع ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
دوسری جانب عسکری ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت نے سرحد یونیورسٹی کے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے اور فوج کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی قانون شکنی کے خلاف فوری اور بلاتفریق سخت ترین کارروائی کرتی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق حفاظتی تحویل میں لیے جانے والے شخص لیفٹینٹ کرنل رینک کے فوجی افسر ہیں۔
حمزہ ہمایوں کے مطابق سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ اور فوجی افسر کی جانب سے طلبہ پر تشدد کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اسلام آباد پولیس کے حکام مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے سے موقع پر موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ بھی حیران تھے کہ پولیس کی موجودگی میں کیسے کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔
یاد رہے کہ اس واقعے کی وائرل فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے باوردی اہلکار موقع پر موجود تھے۔
مقامی پولیس کے مطابق طلبہ سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے شعبۂ ہیومن ریسورس (ایچ آر) کی ڈائریکٹر کے رویے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جب فوجی افسر وہاں پہنچے۔
سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ میں شامل محمد نعمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یونیورسٹی کے طلبہ فیسوں کے معاملے پر احتجاج کر رہے تھے اور انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ فیسوں کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ میں توسیع کی جائے۔
محمد نعمان کے بقول ’اِس دوران لیفٹیننٹ کرنل رینک کے ایک افسر وہاں آئے تو اُن کے ہاتھ میں چھڑی تھی جس سے انھوں نے کچھ طلبہ کو مارنا شروع کر دیا۔‘
محمد نعمان کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ میں شامل افراد جب وہاں پہنچے تو اُس وقت طلبہ اور فوجی افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہو رہی تھی جس کے بعد فوجی افسر نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی اور بعدازاں وہاں سے چلے گئے۔‘
محمد نعمان کے مطابق ہوائی فائرنگ اور طلبہ سے ہاتھا پائی کرنے والے فوجی افسر یونیورسٹی کی ایک ملازم کے شوہر ہیں، جو وقوعہ کے وقت وہاں پر موجود تھیں۔
فوجی افسر کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے بعد طلبہ یونیورسٹی سے نکل کر جی ٹی روڈ پر آ گئے اور ٹریفک بلاک کر دی، جس پر اسلام آباد پولیس کے افسران وہاں پہنچے۔
اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ ہمایوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور انھیں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی۔
انھوں نے کہا کہ جس نے بھی فوج کی وردی میں فائرنگ کی ہے، اسے اپنے ادارے کی طرف سے آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مطابق انھوں نے اس واقعہ کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست دے دی ہے۔