امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سنیچر کی صبح ہونے والے حملے میں مارے جا چکے ہیں تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے اسے ’نفسیاتی حربہ‘ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں۔
- ’خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، وہ ہماری انٹیلیجنس اور جدید ٹریکننگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے‘: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
- ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہعلی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پریشکان محفوظ ہیں
- اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں
- حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور ہمارا ساتھ دیں: نیتن یاہو کی ایرانی عوام سے اپیل
- ایران خاموش نہیں بیٹھا رہ سکتا، افسوس کہ امریکی اہداف دوستانہ ریاستوں میں ہیں: ایرانی وزیر خارجہ
- ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آج کے حملوں کے بعد اسرائیل کے خلاف 'بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے' شروع کر دیے گئے ہیں
’خامنہ ای مارے جا چکے ہیں، وہ ہمارے ٹریکننگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے‘: صدر ٹرمپ کا دعویٰ مگر ایرانی حکام کی تردید