امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے کیا، جبکہ امریکا اور قطر اس کارروائی میں شامل نہیں تھے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو اس مخصوص حملے کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا اور قطر کو بھی اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے قطر کو نشانہ بنایا تو امریکا ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر بھرپور حملہ کرے گا، تاہم ان کے مطابق جب تک ایران قطر پر حملہ نہیں کرتا، اسرائیل مزید کارروائی نہیں کرے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے تاحال اس حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کو اسرائیل کے منصوبے کا پہلے سے علم تھا اور انہوں نے اس کی حمایت بھی کی تھی۔
یاد رہے کہ ایران اور قطر مشترکہ طور پر دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخیرے ساؤتھ پارس فیلڈ کے مالک ہیں۔ ایران نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیل نے بدھ کے روز اس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
ایران نے ردعمل میں خلیجی ممالک میں تیل و گیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور سعودی عرب پر میزائل حملے کیے، جبکہ قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
قطر نے ایران پر اپنے ایل این جی پلانٹ پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دو ایرانی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا، جبکہ اسرائیلی حملے کو بھی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ 28 فروری سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے بھی جوابی کارروائیوں میں اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور تیل کی سپلائی میں خلل پیدا ہوا ہے۔