امریکا نے اہم عالمی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مرحلہ وار فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جس میں جدید جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز تعینات کیے گئے ہیں۔
امریکی اخبار دی وال جرنل سٹریٹ کے مطابق امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا ہے کہ کم بلندی پر پرواز کرنے والے A-10 وار تھوگ طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹرز ایران کے جنوبی ساحل کے قریب کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں تیز رفتار کشتیوں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد بارودی سرنگوں، مسلح کشتیوں اور کروز میزائلوں کو تباہ کرنا ہے، جن کی وجہ سے مارچ کے آغاز سے آبنائے ہرمز بند ہے۔
دوسری جانب بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران اب تک امریکا کے 16 جنگی طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ آپریشن کامیاب رہا تو امریکی بحریہ خلیج میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ مکمل سیکیورٹی بحال کرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، کیونکہ ایران نے ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں اور دیگر حملہ آور وسائل تعینات کر رکھے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو بعد ازاں کم ہو کر تقریباً 108 ڈالر کی سطح پر آ گئی۔