ایرانی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی اہم جوہری تنصیب نطنز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم حملے کے بعد کسی قسم کی تابکاری کے اخراج یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق نطنز کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کو بھی کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے۔
دوسری جانب ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں جوہری تحفظ اور سکیورٹی کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
ایرانی حکام نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال جون میں بھی امریکا کی جانب سے نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔