امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہوگا جبکہ ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ بصورت دیگر پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں خلیجی ممالک کے پاور پلانٹس اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔