ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور امریکی فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔ وزارت نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات حقائق کے برعکس ہیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کی تجاویز کو واشنگٹن کی طرف موڑنا چاہیے کیونکہ ایران اس جنگ کا آغاز کرنے والا فریق نہیں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی عہدیدار نے بھی کہا کہ واشنگٹن اور تہران میں کوئی بات چیت جاری نہیں ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی دھمکی نے امریکا کو حملے ملتوی کرنے پر مجبور کیا۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ جنگ جاری ہے اور دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔