ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ جو بھی نکلے، ان کی حکومت اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان بھیجا گیا اعلیٰ سطح کا وفد ان افراد پر مشتمل ہے جو ایرانی مفادات کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں، حکومت عوام کی خدمت اور ملک کے دفاع میں ایک لمحے کے لیے بھی کوتاہی نہیں برتے گی۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو فون کر کے خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر میکرون نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے تمام متعلقہ ممالک کی شمولیت اور ایک ٹھوس معاہدہ ناگزیر ہے۔ فرانسیسی صدر نے ایران سے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں عالمی بحری جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
علاوہ ازیں، فرانسیسی صدر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک پائیدار معاہدے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے اس کے دائرہ کار کو فوری طور پر لبنان تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔