امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیر ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز میں موجودہ سخت اقدامات کو جاری رکھنے پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ حکمتِ عملی اس وقت زیر غور آئی جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور مذاکراتی تعطل کو ختم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی حملوں کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم اس آپشن کو فی الحال کم ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک اور آپشن کے طور پر محدود مدت کی سمندری ناکہ بندی پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ امریکا اپنے اتحادی ممالک پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کی سیکیورٹی میں طویل المدتی کردار ادا کریں۔