وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ منی چینجرز کے ذریعے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک رقوم منتقل کرنے والوں کو کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی۔
ایف پی سی سی آئی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویزا مسائل کی ایک بڑی وجہ وہ افراد ہیں جو غلط طریقوں سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے دیگر کاروباری افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت بزنس کمیونٹی کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی تجاویز وزیر اعظم کو بھجوا رہی ہے، جن میں کاروباری افراد کے لیے علیحدہ پاسپورٹ کا اجرا بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سے چار سال میں تقریباً 100 ارب ڈالر ملک سے باہر منتقل ہوئے، اگر بیرونِ ملک موجود رقوم کا 20 فیصد بھی واپس آجائے تو معاشی مسائل میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ایف آئی اے کو بھی بزنس فرینڈلی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں چند افراد کی جانب سے غیر قانونی ڈالر ٹرانزیکشنز کا سراغ لگایا گیا ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک سے سرمایہ باہر منتقل کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔