امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک منصفانہ اور بہتر معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایران کو سخت دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو ہر صورت میں مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، ورنہ موجودہ جنگ بندی (سیز فائر) میں توسیع کا امکان بہت کم ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں اصرار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جو سابق صدر براک اوباما کے زمانے میں ہونے والے جوہری معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا، "اگر پیش رفت ہوئی تو میں خود ایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا۔" انہوں نے واضح کیا کہ نئے معاہدے کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے ان بیانات کے فوراً بعد ایران نے سخت موقف اختیار کرلیا۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ "عظیم تہذیب رکھنے والا کوئی بھی ملک دھمکیوں پر مذاکرات نہیں کرتا۔
انہوں نے امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران باوقار اور مساوی مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر دباؤ اور دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ 2015 میں اوباما انتظامیہ کے دور میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس سے ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو علیحدہ کرلیا تھا۔ اب ٹرمپ کے نئے موقف اور ایران کے سخت ردعمل نے خطے میں نئی کشیدگی پیدا کردی ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ آیا مستقبل قریب میں مذاکرات کی راہ ہم وار ہو پائے گی یا صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔