امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتائج ایران کے لیے انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ جلد کسی معاہدے تک پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر بھی شیئر کی، جس پر درج تھا “یہ طوفان سے پہلے کا سکون تھا۔
رپورٹس کے مطابق تصویر بظاہر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جس میں ٹرمپ کو جنگی بحری جہازوں کے درمیان دکھایا گیا، جبکہ بعض جہازوں پر ایرانی پرچم بھی نمایاں تھے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار جب معاہدے کی بات ہوتی ہے تو اگلے دن ایسا لگتا ہے جیسے کوئی گفتگو ہوئی ہی نہیں، انہوں نے ایران کے رویے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید بھی کی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے تاہم دیگر ممالک کے اصرار پر جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو شاندار شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حملے سے باز رہنے اور سفارتی حل کی جانب بڑھنے پر زور دیا۔
صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو 20 برس کے لیے معطل کرنے پر انہیں اعتراض نہیں، تاہم ایران کو اپنے عزم میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شی جن پنگ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور تائیوان کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور فی الحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی گئی۔