روسی طیاروں کی ’خطرناک انداز‘ میں برطانوی جاسوس طیارے کو ’روکنے کی کوشش‘: ’ایک طیارہ صرف چھ میٹر کی دُوری پر تھا‘

برطانوی وزارتِ دفاع نے اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے کہ کیسے روسی جنگی طیاروں نے رائل ایئر فورس کے طیارے کو کو ’بار بار خطرناک انداز‘ میں روکنے کی کوشش کی

برطانوی وزارتِ دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ماہ بحیرۂ اسود کے اُوپر دو روسی جنگی طیاروں نے برطانیہ کی رائل ایئر فورس (آر اے ایف)کے طیارےکو ’بار بار خطرناک انداز‘ میں روکنے کی کوشش کی اور یہ طیارے کے اتنا قریب آ گئے کہ اس کا ہنگامی نظام فعال ہو گیا۔

برطانوی وزارتِ دفاع نے اس واقعے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ بیان کے مطابق ایک روسی Su-35 طیارہ راونٹ جوائنٹ نگرانی کے طیارے کے بہت قریب آیا اور اس کی وجہ سے اس کا آٹو پائلٹ نظام فعال ہو گیا۔

بیان کے مطابق روس کے ایک اور Su-27 طیارے نے آر اے ایف کے طیارے کے سامنے چھ مرتبہ چکر لگائے اور اس کے صرف چھ میٹر قریب تک پہنچ گیا۔

برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے روسی پروازوں کو 'ناقابل قبول' قرار دیتے ہوئے آر اے ایف کی ’غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت‘ کی تعریف کی۔

https://twitter.com/DefenceHQ/status/2057129219855962481

Britain Russia
EPA
برطانوی حکام کے مطابق ایک روسی طیارہ برطانیہ کے سرویلنس طیارے کے بہت قریب آ گیا تھا

برطانوی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سنہ 2022 کے بعد یہ روس کی سب سے خطرناک کارروائی ہے، اس وقت ایک روسی لڑاکا طیارے نے بحیرۂ اسود کے اُوپر برطانیہ کے جاسوس طیارے پر میزائل داغ دیا تھا۔ روس نے ستمبر 2022 میں پیش آنے والے اس واقعے کو ’تکنیکی خرابی‘ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

روسی پائلٹ نے دو میزائل فائر کیے تھے، جن میں سے پہلا اپنے ہدف سے چوک گیا تھا۔

برطانیہ نے روسی وضاحت کو قبول کر لیا، لیکن بعد میں تین سینئر مغربی دفاعی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ روسی پائلٹ نے ایک ’مبہم ہدایت‘ کے بعد جو روسی زمینی سٹیشن سے دی گئی تھی، میزائل داغا تھا۔

’کشیدگی کے سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں‘

برطانوی وزارتِ دفاع نے حالیہ واقعے کے حوالے سے مزید بتایا کہ برطانیہ کا یہ سرویلنس طیارہ نیٹو کے مشرقی محاذ کے تحفظ کے لیے معمول کی پرواز کر رہا تھا۔

برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے روسی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واقعہ ایک اور مثال ہے کہ روسی پائلٹ ایک غیر مسلح طیارے جو بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا کو کس طرح خطرناک انداز میں روک رہے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے حادثات اور ممکنہ کشیدگی کے سنگین خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ نیٹو، ہمارے اتحادیوں اور ہمارے مفادات کے دفاع کے لیے روسی جارحیت کے خلاف برطانیہ کے عزم کو کمزور نہیں کرے گا۔‘

برطانوی وزارت دفاع اور دفتر خارجہ نے روسی سفارت خانے سے اس واقعے کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں روسی جارحیت میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں۔

رائل ایئر فورس کا راونٹ جوائنٹ آر سی 135 ڈبلیو طیارہ 51 سکواڈرن کے زیرِ استعمال ہے اور یہ عموماً لنکن شائر میں واقع ایک اڈے سے پرواز کرتا ہے۔

آر اے ایف کی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ جدید سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے ’برقی مقناطیسی طیف میں سگنلز کو روکنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور حقیقی وقت میں سٹریٹجک اور ٹیکٹیکل انٹیلی جنس فراہم کرتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US