ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کو محض وعدوں اور ضمانتوں پر اعتماد نہیں، بلکہ صرف عملی اقدامات کو ہی اصل معیار سمجھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک دوسرا فریق عملی پیش رفت نہیں کرتا، ایران بھی کسی قسم کا اقدام نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی معاہدے میں اصل برتری اس فریق کو حاصل ہوتی ہے جو اگلے دن کے لیے بہتر تیاری رکھتا ہو۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں، تاہم یہ دستاویز ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرسکی۔