امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ قریب ہے، جبکہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
اپنے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایرانی فوج کے مکمل ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا، اور ایرانی فوج کا ایک حصہ نسبتاً ”اعتدال پسند“ ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایگزیوس“ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جلد معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنی شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت ایران مستقبل میں دوبارہ ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے جواب موصول ہونے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ متوقع ہے، تاہم اس کے حتمی وقت کا تعین ابھی نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ تمام طے شدہ شرائط کی تکمیل کے لیے ایک ہفتہ یا اس سے زیادہ انتظار بھی کر سکتے ہیں۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف میں ایک بار پھر تبدیلی کرتے ہوئے نئی اور سخت تجاویز ایران کو بھجوا دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے بھیجی گئی تبدیل شدہ تجاویز کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ پہلے سے تیار کردہ معاہدے کے فریم ورک پر جلد رضامندی ظاہر کرے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے مختلف بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ نہ صرف ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کرے گا بلکہ ایٹم بم حاصل کرنے کی بھی کوشش نہیں کرے گا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے جمعے کو آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد کھولا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور امریکا اپنے اہم مقاصد حاصل کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہیں کیونکہ عجلت میں ہونے والا معاہدہ مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بدستور جاری ہیں، جبکہ مجوزہ معاہدے کی حتمی شرائط اور وقتِ تکمیل کے حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا
ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ ایران امریکا معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز پر ایران کو زیادہ اختیارات مل سکتے ہیں، جن میں جہازوں کی درجہ بندی، تلاشی اور بعض پابندیوں کے نفاذ کے اختیارات شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا 60 روز کے اندر 12 ارب ڈالر مالیت کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم معاہدے کا متن ابھی حتمی نہیں اور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔
ادھر ایران نے ایک اور امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ”ایم کیو ون“ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا اور حساس مقامات کی جاسوسی کر رہا تھا، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا۔