نیویارک سے ایک ایسی دردناک اور جذباتی کہانی سامنے آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہر آنکھ کو نم کر دیا ہے۔ ایک محنت کش پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور، عاشق حسین، جو گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ کے شہر نیویارک میں اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا تھا، اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے بیوی اور چار بچوں کو وہاں بلانے کے خواب دیکھتا رہا۔
عاشق حسین کی زندگی کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ وہ اپنے خاندان کو بہتر زندگی فراہم کرے اور انہیں اپنے پاس نیویارک لے آئے۔ وہ مسلسل محنت، قربانی اور صبر کے ساتھ اپنی کمائی کا بڑا حصہ اسی خواب کی تکمیل کے لیے جمع کر رہا تھا۔ کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار وہ لمحہ قریب آگیا تھا جب اس نے اپنی بیوی اور چار بچوں کے ویزا اور سفر کی تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔
مگر تقدیر نے ایک ایسا دردناک موڑ لیا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان کے اپارٹمنٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اسی دوران بچاؤ کی کوششوں کے دوران وہ عمارت کی سیڑھیوں سے گر گئے اور شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا مگر زخموں کی شدت برداشت نہ کرتے ہوئے وہ جانبر نہ ہوسکے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ صرف چند دن بعد اپنے خاندان سے برسوں بعد ملاقات اور باضابطہ ملاپ کرنے والے تھے۔ ان کا وہ خواب جس کے لیے انہوں نے اپنی جوانی، وقت اور توانائی وقف کر دی تھی، آنکھوں کے سامنے ادھورا رہ گیا۔
واقعے کی خبر جیسے ہی سوشل میڈیا پر پہنچی، ہر طرف دکھ اور افسوس کی لہر دوڑ گئی۔ صارفین نے ان کے لیے دعاؤں اور ہمدردی کے پیغامات شیئر کیے، جبکہ ہزاروں لوگوں نے ان کے خاندان کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا کی۔ یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں رہی بلکہ ہر اس شخص کی بن گئی ہے جو اپنے خاندان کے لیے پردیس میں قربانی کی زندگی گزار رہا ہے۔