امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو 100 دن مکمل ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، اس تنازع نے طویل شکل اختیار کرکے عالمی معیشت، تجارت اور سفارت کاری کو شدید متاثر کیا ہے۔
ہزاروں ہلاکتیں اور نقل مکانی:
اب تک جنگ کے باعث کم از کم 7 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں لبنان میں 3,593، ایران میں 3,468 اور خلیجی ممالک میں 29 ہلاکتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی حملوں میں 26 اسرائیلی اور 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔ فضائی حملوں کی وجہ سے ایران میں 30 لاکھ اور لبنان میں 10 لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوئے۔
لبنان کے وسیع علاقے پر اسرائیلی قبضہ:
17 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں اور یکم جون تک اسرائیلی افواج نے تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل اب جنوبی لبنان کے تقریباً 2 ہزار مربع کلو میٹر علاقے (ملک کے لگ بھگ پانچویں حصے) پر قابض ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی تجارت:
اس اہم ترین آبی گزرگاہ سے جہازوں کی روزانہ آمدورفت 100 سے کم ہو کر اوسطاً صرف 7 رہ گئی ہے، جس سے دنیا کی 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل اور مال برداری کے اخراجات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر پیٹرول اور اشیاء کی گرانی:
برینٹ کروڈ تیل کی قیمت 70 ڈالر سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد اب 100 ڈالر پر برقرار ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے 146 ممالک میں پٹرول مہنگا ہوا، جس میں میانمار میں 90 فیصد، نائجیریا میں 50 فیصد اور پیرو میں 40 فیصد اضافہ شامل ہے۔ ایندھن اور گیس مہنگی ہونے سے کھاد، خوراک اور روزمرہ کی صنعتی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
مالیاتی مارکیٹوں میں مندی:
جنگ کے ابتدائی مرحلے میں عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو شدید نقصان پہنچا اور امریکی اسٹاک انڈیکس مارچ کے آخر تک 9.1 فیصد گر گیا، جبکہ جاپان اور یورپ کی مارکیٹیں بھی شدید دباؤ کا شکار رہیں۔
پاکستانی ثالثی اور جوہری پروگرام پر اعتماد کا فقدان:
پاکستان کی کوششوں سے 8 اپریل کو امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی تھی۔ بعد ازاں 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے، تاہم جوہری پروگرام اور باہمی اعتماد کے فقدان کے باعث کوئی مستقل ڈیل نہ ہوسکی۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی:
ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کم ہو کر 40.3 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 57 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق 100 دن گزرنے کے باوجود اس عالمی بحران کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آ رہا اور مستقبل کا انحصار آنے والے ہفتوں کے مذاکرات پر ہے۔