اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ عالمی امن و استحکام کیلیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین اب بھی مختلف دہشت گرد تنظیموں کیلیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔
سلامتی کونسل میں افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ انسانی ہمدردی، سیاسی روابط اور تجارتی تعاون کے فروغ کیلیے متعدد اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد توقع تھی کہ افغانستان میں خونریزی کا خاتمہ ہوگا اور ایک پرامن و ذمہ دار نظام قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید تھی کہ طالبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں گے، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کیا گیا۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد عناصر کو حاصل آزادی کے باعث پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے دہشت گردی کے مختلف واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
عاصم افتخار نے بتایا کہ دہشت گرد عناصر غیر ملکی افواج کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے جدید عسکری سازوسامان کا استعمال کررہے ہیں، جبکہ اب تک ایسے ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سال 2025 کے دوران پاکستان کو 5300 سے زائد دہشت گردی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1200 سے زائد پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مستقل مندوب نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس چوکی پر ہونے والے ایک حملے کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت نے دہشت گرد عناصر کے ساتھ تعاون کا خطرناک راستہ اختیار کرلیا ہے۔
عاصم افتخار نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلیے ہرممکن اقدام کرے گا اور دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ جاری رکھے گا۔