وزیراعظم محمد شہباز شریف سے زرعی شعبے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے وفد نے ملاقات کی، جس میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل زرعی شعبے سے متعلق مشاورت کی گئی۔
وفد میں کسان تنظیموں، ڈیری و لائیو اسٹاک سیکٹر، ویلیو ایڈڈ انڈسٹری، بیج تیار کرنے والی کمپنیوں اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے حالیہ علاقائی صورتحال میں امن کے قیام کے لیے وزیراعظم کی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ وفد نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی سیڈ پالیسی اور زرعی اصلاحات کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے زرعی شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی میں زرعی شعبہ بنیادی اور انقلابی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے تعاون سے PARC کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ زرعی تحقیق کو تیز کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے زرعی اصلاحات اور شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ملک بھر کے ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی اور مؤثر روابط یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہائبرڈ بیجوں کا فروغ، باغبانی کی ترقی، زرعی میکانائزیشن اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جائے۔
کپاس کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بالخصوص بلوچستان سمیت صوبے جامع منصوبہ پیش کریں، جبکہ ازسرنو تشکیل شدہ کاٹن بورڈ کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرخیزی اسکیم کے تحت چھوٹے کسانوں کو ایک ملین روپے تک کے آسان قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے رسک کوریج اسکیم اور کراپ انشورنس بھی جاری ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے نیشنل اینیمل ہیلتھ ایکٹ اور نیشنل بریڈنگ پالیسی کے مسودات تیار کیے جاچکے ہیں۔
وفد کے اراکین نے زرعی شعبے کے مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں اور حکومتی معاشی و ترقیاتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا، اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔