وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اکنامک سروے آف پاکستان برائے مالی سال 2025-26 وزیرِ اعظم شہباز شریف کو پیش کردیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران اکنامک سروے کی باضابطہ کاپی وزیرِ اعظم کو پیش کی۔ اس موقع پر ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال اور جاری اقتصادی اشاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس سے قبل قومی اقتصادی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئندہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل میں اضافے اور اقتصادی بہتری کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو میں تیزی لانے کے لیے برآمدات میں اضافے سمیت مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت میں مجموعی سطح پر بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں تاہم مزید محنت اور تسلسل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیم ورک کے ذریعے ملکی مفاد میں فیصلے کیے ہیں، جبکہ گزشتہ عرصے میں معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق مشکلات کے باوجود حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھا ہے۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے بھی بات کی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور کوششوں کو سراہا گیا۔