ایلون مسک جمعے کو اس وقت دنیا کے پہلے کھرب پتی بن گئے جب ان کی خلائی کمپنیسپیس ایکس کے شیئرز تاریخ کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ لسٹنگ کے بعد اتنی تیزی سے بڑھے جیسے وہ آسمان کو چھونے لگے ہوں۔

ایلون مسک جمعے کو اس وقت دنیا کے پہلے ٹریلینئر بن گئے جب ان کی خلائی کمپنیسپیس ایکس کے شیئرز تاریخ کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ لسٹنگ کے بعد اتنی تیزی سے بڑھے جیسے وہ آسمان کو چھونے لگے ہوں۔
واضح رہے کہ ایک ٹریلین دس کھرب کے برابر ہوتا ہے۔
ٹیسلا اور سپیس ایکس کے بانی نے دنیا کے امیر ترین شخص کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ بلومبرگ کی امیروں کی فہرست کے مطابق ان کی مجموعی دولت 1.11 کھرب ڈالر (828 ارب پاؤنڈ) تک پہنچ گئی ہے۔
یہ راکٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور مصنوعی ذہانت کی کمپنی کے طور پر سامنے آئی جو نیسڈیک سٹاک ایکسچینج میں درج تھی اور اس کی مالیت 2.2 کھرب ڈالر تھی۔
کمپنی نے اپنے شیئر کی قیمت 135 ڈالر مقرر کی تھی، لیکن ٹریڈنگ کے آغاز پر یہ 150 ڈالر تک پہنچ گئی اور کچھ دیر کے لیے 176.50 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس اضافے کو سرمایہ کاروں کی خلائی کاروبار اور ایلون مسک سے وابستہ کمپنیوں میں بڑھتی دلچسپی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سپیس ایکس کے شیئرز جمعے کو تقریبا 161 ڈالر پر بند ہوئے۔
جمعے کو کمپنی کے شیئرز کی سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ شروع ہونے سے پہلے، سپیس ایکس نے اپنے آئی پی او (آئی پی او) کے ذریعے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں سے 75 ارب ڈالر اکٹھے کیے۔
سپیس ایکس میں ایلون مسک کی 42 فیصد ملکیت انھیں کمپنی کے معاملات پر تقریباً مکمل اختیار دیتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو اپنی ترجیحات کے مطابق خرچ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق ان کے سپیس ایکس میں شیئرز کی مالیت تجارت بند ہونے پر 767.1 ارب ڈالر تھی، اور ان کے پاس سپیس ایکس کے 53.8 ارب ڈالر کے اضافی آپشنز بھی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ ٹیسلا میں ان کے حصص کی مالیت 168 ارب ڈالر اور مزید 116.4 ارب ڈالر کے آپشنز ہیں۔
دولت میں اضافے سے چھڑنے والی بحث
اگرچہ ایلون مسک کو ٹریلینئر کہا جا رہا ہے، لیکن یہ دولت زیادہ تر 'کاغذی' ہے کیونکہ یہ ان کے حصص، خاص طور پر ٹیسلا اور سپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو پر مبنی ہے۔مسک کے دنیا کے پہلے کھرب پتی ہونے کا درجہ فوری طور پر دولت میں عدم مساوات پر بحث کا باعث بن گیا۔ ان کی دولت اب پولینڈ یا سوئٹزرلینڈ کی مجموعی اقتصادی پیداوار کے برابر ہے۔
ایسی بے مثال دولت نے پہلے ہی مسک کو عالمی سیاست میں ایک طاقتور اور متنازع شخصیت بنا دیا ہے۔
انھوں نے ملک کی قیادت پر تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ انتخابی مہم کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر دیے اور گذشتہ سال کئی ماہ تک مسک نے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈوج) کی سربراہی کی۔
حکومتی اخراجات میں سخت کٹوتیوں کے ذریعے، مسک امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی بندش کے ذمہ دار تھے۔
لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع محققین کی ایک وارننگ کے مطابق، ایسی کٹوتیاں 2030 تک ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ اضافی اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔
انھوں نے برطانیہ اور دیگر مقامات پر قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اکثر تارکینِ وطن اور نسلی تقسیم کو فروغ دینے جیسے موضوعات پر۔
مسک کا برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کے ساتھ بارہا ٹکراؤ ہوا ہے، جس میں 18 سالہ برطانوی طالب علم ہنری نوواک کے قتل کا معاملہ بھی شامل ہے۔
امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن ان سیاست دانوں میں شامل تھے جنھوں نے کھرب پتی ہونے کے اس سنگ میل کی مذمت کی۔ وارن نے کہا کہ یہ ایک ’خبردار کر دینے والا لمحہ‘ ہونا چاہیے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیروں پر ویلتھ ٹیکس لگانے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
اگرچہ ایلون مسک کو ٹریلینئر کہا جا رہا ہے، لیکن یہ دولت زیادہ تر ’کاغذی‘ ہے کیونکہ یہ ان کے حصص، خاص طور پر ٹیسلا اور سپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو پر مبنی ہے۔
وہ اپنے سپیس ایکس کے شیئرز کم از کم ایک سال تک فروخت نہیں کر سکتے، اس لیے یہ دولت فوری طور پر نقد (کیش) میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
سپیس ایکس کی اس پبلک لسٹنگ کے نتیجے میں کمپنی کے موجودہ اور سابقہ 4,400 سے زائد ملازمین بھی امیر بننے کی توقع ہے، کیونکہ انھیں تنخواہ کے حصے کے طور پر کمپنی کے شیئرز دیے گئے تھے۔
سپیس ایکس کی قدر کا زیادہ تر انحصار اس کی ممکنہ مستقبل کی آمدنی کے بارے میں امیدوں پر ہے، بجائے ان مالی نتائج کے جو وہ اب تک دکھا چکی ہے۔
یہ اس وقت منافع بخش نہیں ہے، یعنی یہ اپنے آپریشنز سے جتنا کماتی ہے اس سے زیادہ نقصان اٹھاتی ہے۔
اپنی مالی دستاویزات کے مطابق، یہ کمپنی 2025 اور اب تک 2026 میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکی ہے، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت اور دیگر انفراسٹرکچر میں اس کی بھاری سرمایہ کاری ہے۔
اس کا بنیادی کاروبار راکٹ بنانا اور دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کے ذریعے لانچ کرنا ہے۔
سپیس ایکس سٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس بھی تیار اور لانچ کرتی ہے، اور اس سال ایکس اے آئی کے حصول کے ذریعے جو مسک کی ملکیت اور زیرِ انتظام ایک اور کمپنی تھی، سپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کے کاروبار میں بھی قدم رکھا ہے۔
سپیس ایکس کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم کو راکٹوں، اپنے بڑھتے ہوئے سٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے لیے سیٹلائٹس اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اپنی ’ترقی کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے‘ کے لیے استعمال کرے گی، جس میں مدار میں ڈیٹا سینٹرز بنانے جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
نینسی ٹینگلر، جو لیفر ٹینگلر انویسٹمنٹس کی سربراہ ہیں اور انھوں نے سپیس ایکس کے شیئرز خریدنے کا آرڈر دیا ہے، نے کمپنی کے اے آئی بزنس کو ’پیسہ جلانے والی مشین‘ قرار دیا، باوجود اس کے کہ ایلون مسک اس شعبے کے لیے بڑے عزائم رکھتے ہیں۔
ٹینگلر نے کہا، ’یہ ضروری ہے کہ کچھ پیشگوئیوں کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جائے۔‘
اس کے باوجود، وہ کمپنی میں اس کی طویل مدتی صلاحیت کی وجہ سے سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
ٹینگلر نے کہا، ’ہماری سرمایہ کاری کا دورانیہ تین، پانچ، حتیٰ کہ دس سال ہے۔‘
وہ یہ بھی توقع کر رہی ہیں کہ سپیس ایکس آئندہ دو سال کے اندر ٹیسلا کے ساتھ ضم ہو سکتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر ایک ایسی کمپنی وجود میں آئے گی جس کی قدر ان سے بھی زیادہ ہو گی۔
لیکن اس وقت سپیس ایکس کے عزائم سیٹلائٹس یا انضمام سے بھی زیادہ بلند ہیں۔
اس کے آئی پی او پراسپیکٹس کے مطابق، اسپیس ایکس کا مشن ہے: ’ایسے نظام اور ٹیکنالوجیز بنانا جو انسانوں کو ایک سے زیادہ سیاروں پر رہنے کے قابل بنائیں، کائنات کی اصل نوعیت کو سمجھنا، اور شعور کی روشنی کو ستاروں تک پھیلانا۔‘
سپیس ایکس نے یہاں تک کہا کہ اس کی مستقبل کی ترقی اور کامیابی بڑی حد تک اس چیز کی تعمیر پر مبنی ہے جسے وہ ’قمری معیشت‘ کہتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں اور سامان کو چاند اور مریخ تک لے جانا، اور ایسا باقاعدگی سے کرنا تاکہ وہاں ایک حقیقی معیشت وجود میں آ سکے۔
سپیس ایکس خود تسلیم کرتا ہے کہ اسے یقین نہیں کہ یہ مقصد کبھی کامیاب ہو بھی پائے گا۔
کمپنی نے اپنے پراسپیکٹس میں لکھا ہے کہ ’ہماری بہت سی کاوشیں۔۔۔ نمایاں تکنیکی پیچیدگی، غیر آزمودہ ٹیکنالوجیز یا ایسی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ہیں جو ابھی موجود ہی نہیں اور یہ ممکن ہے کہ یہ منصوبے تجارتی طور پر کامیاب نہ ہو سکیں۔‘
مظاہرین نے نیو یارک سٹی کے ٹائمز سکوائر میں مسک کے خلاف مظاہرہ کیا سوسنہ سٹریٹر، جو اثاثہ مینیجر ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ ہیں، نے کہا کہ شیئر کی قیمت میں اضافہ ’ایلون مسک کے وژن میں زبردست دلچسپی کی علامت ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے اپنی خلائی خواہشات کے ذریعے ستاروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ بہت سے سرمایہ کار بھی مستقبل کے لیے ان کے جوش و جذبے میں شریک ہیں۔
لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ جمعے کا یہ اضافہ ’بنیادی معاشی عوامل کے بجائے زیادہ تر ہائپ اور کمی کی وجہ سے تھا۔‘
جہاں بہت سے انفرادی سرمایہ کار سپیس ایکس کی لسٹنگ میں شامل ہونا اور اس کے شیئر خریدنا چاہتے تھے، وہیں کچھ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ کتنے سرمایہ کار شاید غیر ارادی طور پر اس کمپنی میں شامل ہو جائیں گے۔
پنشن فنڈز اور بچت کے اکاؤنٹس اکثر انڈیکس سے منسلک فنڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، جو بڑی کمپنیوں کے شیئر خریدتے ہیں، اور اس سے سپیس ایکس کے شیئر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا اثر ان پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سپیس ایکس کے شیئرز کی قیمت کہاں جائے گی، یہ ایسے سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی تشویش ہوگی۔
مرجرمارکیٹ میں ایکویٹی کیپیٹل مارکیٹس ریسرچ کے سربراہ سیموئل کیر نے کہا: ’سپیس ایکس کے بارے میں اصل سوال آئی پی او کے فوراً بعد کی ٹریڈنگ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ طویل مدت میں اس کی قیمت کیسے برقرار رہتی ہے۔‘