اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں چھوٹے ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت، انسانی بحران اور دہشت گردی سے متعلق صورتحال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ کونسل نے زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں، جبکہ خواتین کے حقوق اور عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اجلاس کے دوران افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر طالبان حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ طالبان حکومت مختلف دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جس سے خطے اور دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب جنیفر لوکیٹا نے کہا کہ طالبان کو انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مستقبل کی کسی بھی مثبت پیش رفت کا انحصار طالبان کے طرزِ عمل اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق ان کی پالیسیوں میں تبدیلی پر ہے۔
سلامتی کونسل کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں پائیدار امن، انسانی حقوق کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔