ٹرمپ کا ایران معاہدے پر اعتماد، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر اظہارِ ناپسندیدگی

image

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ لبنان میں کسی بھی ممکنہ اسرائیلی حملے یا خطے میں کشیدگی کے باوجود برقرار رہے گا اور اس پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے ہونے والے مذاکرات نسبتاً آسان ہوں گے اور موجودہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان مزید سفارتی کامیابیوں کی بنیاد بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وہ ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم ان کے بقول حالات ایسے تھے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔ صدر ٹرمپ نے قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دوحہ نے معاملات کو جس انداز سے سنبھالا وہ قابلِ تعریف ہے اور ایران کے ساتھ ایک منصفانہ معاہدہ طے پایا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ روس کو بھی یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملے کو ناپسند کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے معاملے کو جس انداز سے سنبھالا جا رہا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں اور یہ تنازع ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اوباما دور کے معاہدے کی خامیوں کے باعث ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قریب پہنچ رہا تھا، تاہم موجودہ معاہدہ خطے میں استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ خطے کو مزید جنگ اور کشیدگی سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے حزب اللہ کو خطے میں مسلسل تناؤ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان کی موجودہ صورتحال نسبتاً محدود تنازع ہے، جبکہ اصل اہمیت ایران سے متعلق معاملات کی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US