اس معاہدے اور خاص طور پر رقم کی ادائیگی سے متعلق تنقید فوری طور پر سامنے آ گئی ہے، اور تنقید کرنے والوں میں ٹرمپ کی اپنی جماعت کے لوگ بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے اراکین ٹرمپ انتظامیہ سے اس معاہدے اور اس سے منسلک غیر یقینی صورتحال کے بارے میں بریفنگ اور تفصیلی معلومات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کی جانب سے دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت دراصل آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی اور باقی تمام دیگر اہم معاملات پر ایک جامع حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کا آغاز ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس کے موقع پر طویل پریس کانفرنس کے دوران اس مفاہمتی یادداشت کو امریکہ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جس کے چند ہی گھنٹوں بعد دونوں ممالک نے تصدیق کی کہ اس یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کر دیے گئے ہیں اور اب یہ نافذ العمل ہے۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے صحافیوں کو دی گئی بریفنگ میں سامنے آنے والی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جامع اور دیرپا امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔
ایران کے جوہری معاملات سمیت ایک اہم موضوع ایران کو اربوں ڈالر کی ادائیگی ہے اور اس وقت یہ موضوع بحث بھی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے چھٹے نکتے کے مطابق امریکہ اور علاقائی شراکت دار، ایران میں تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے ایک ’حتمی، باہمی طور پر طے شدہ منصوبے‘ کو تیار کریں گے۔
اس ضمن میں حتمی طریقۂ کار پر حتمی معاہدے کے 60 دن کے اندر اتفاق کیا جائے گا اور اس حوالے سے تمام لائسنس، رعایتیں اور اجازت نامے امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔
اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی سیون کے اجلاس کے دوران واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ ایران کو کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کرے گا اور یہ معاملہ ٹرمپ کے لیے اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ وہ 2016 میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران کو دیے گئے 1.7 ارب ڈالر کے معاملے پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔
تاہم معاہدے کے متن کے مطابق امریکہ خطے کے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے ایک باہمی طور پر طے شدہ منصوبے پر کام کرے گا۔
ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ ایران کو ایک ڈالر بھی دینے کا پابند نہیں ہے۔
تاہم ٹرمپ او رسینیئر عہدیدار کے دعوؤں کے برعکس معاہدے میں استعمال کی گئی زبان قدرے مبہم ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مستقبل میں جنگ کے تصفیے کے حصے کے طور پر امریکہ کی جانب سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کو مالی ادائیگی کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔
اور اس کا عندیہ صدر ٹرمپ کے 17 جون کے اس بیان سے ملتا ہے کہ جب اس معاملے سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کو تعمیرِ نو کی مد میں فنڈز ’صرف اُس صورت میں ملیں گے جب وہ درست اقدامات کرے گا۔‘
یہ معاملہ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔ چند حلقوں کی جانب سے رقم کی ادائیگی سے متعلق شق پر اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے، چاہے ایران کو دی جانے والی ممکنہ رقم براہِ راست امریکہ کی جانب سے ادا نہ بھی کی جائے۔
اس معاہدے اور خاص طور پر رقم کی ادائیگی سے متعلق تنقید فوری طور پر سامنے آ گئی ہے، اور تنقید کرنے والوں میں ٹرمپ کی اپنی جماعت کے لوگ بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے اراکین ٹرمپ انتظامیہ سے اس معاہدے اور اس سے منسلک غیر یقینی صورتحال کے بارے میں بریفنگ اور تفصیلی معلومات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
متعدد ریپبلکن رہنماؤں نے اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایک نمایاں ریپبلکن سینیٹر نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دے دی ہیں اور اس کے بدلے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کیا۔
سینیٹر بل کیسڈی، جو ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار کے خلاف پرائمری انتخاب ہار گئے تھے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ’ایران کے جوہری عزائم پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی، اور انھوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دھمکی دینا مؤثر ہے، جسے وہ مستقبل میں یقیناً استعمال کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کئی دہائیوں میں خارجہ پالیسی کی بدترین غلطی ہے۔‘
جے ڈی وینس نے گذشتہ دنوں بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس کو انٹرویو دیا تھا۔ جب اُن سے 300 ارب ڈالرز سے متعلق سوال کیا گیا کہ انھوں نے کہا کہ’یہ وہ چیز ہے جس تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے۔‘
لیکن، اُن کے مطابق، اس میں دو اضافی نکات یا شرائط بھی شامل ہیں۔
جے ڈی وینس نے بتایا تھا کہ ایک نکتہ تو یہ ہے کہ فنڈ ’خلیجی ممالک کا اتحاد فراہم کرے گا‘ اور دوسرا یہ کہ اس کے عوض ’ایران کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔‘
اس کا سادہ سا مطلب تو یہ ہے کہ ایران کو رقم تو ضرور ملے گی لیکن وہ رقم امریکہ نہیں بلکہ خلیجی ممالک دیں گے۔