اسرائیل میں بعض لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ امریکی صدر ہیں تو وہ حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ اسرائیل کی سکیورٹی کا بڑا حصہ امریکی تعاون پر قائم ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے دو تہائی ہتھیار امریکا میں تیار کیے گئے اور ان کی مالی لاگت امریکی ٹیکس دہندگان نے برداشت کی۔ کچھ اسرائیلی وزرا کی جانب سے ڈیل پر تنقید اور صدر ٹرمپ پر ذاتی حملے افسوسناک ہیں۔ قومی سلامتی کے چیلنجز کا حل طاقت اور تشدد میں نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ پالیسیوں اور ذمہ دارانہ فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں ایک نئی دراڑ؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پہلی بار اسرائیلی قیادت کو کھلے عام ایسی سخت تنبیہ دی ہے جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نہ صرف اسرائیلی کابینہ کے چند ارکان کی تنقید کو مسترد کیا بلکہ یہ بھی یاد دلایا کہ اسرائیل کی عسکری طاقت کے پیچھے امریکی مدد کا کتنا بڑا کردار ہے۔
جے ڈی وینس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ امریکی حمایت کو نظر انداز کر کے واشنگٹن پر انگلی اٹھانا حقائق سے فرار کے مترادف ہے۔ ان کا اشارہ خاص طور پر ان اسرائیلی وزرا کی جانب تھا جو حالیہ معاہدے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے اسرائیل کے سیکیورٹی اور فنانس حکام کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسلسل جارحانہ حکمت عملی اور طاقت کے استعمال سے سلامتی کے پیچیدہ مسائل حل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق پائیدار استحکام کے لیے صرف فوجی اقدامات کافی نہیں بلکہ سیاسی دانشمندی اور سفارتی راستے بھی ناگزیر ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب جے ڈی وینس نے اسرائیلی پالیسیوں پر سوال اٹھایا ہو۔ اس سے قبل لبنان میں شہری آبادی پر حملوں کے معاملے پر بھی وہ کھل کر بول چکے ہیں اور اسرائیل پر زور دے چکے ہیں کہ وہ بین الاقوامی ذمہ داریوں اور امن معاہدوں کی پاسداری کرے۔ ان کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا واشنگٹن اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنے قریبی اتحادی کو پہلے جیسی غیر مشروط حمایت دینے کے موڈ میں ہے یا نہیں۔