جے ڈی وینس کی تنقید کے بعد سابق اسرائیلی وزیراعظم کی تنبیہ: ’نیتن یاہو کی حکومت نہ بدلی تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات ختم ہو جائیں گے‘

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’گو کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اس راستے پر نہیں چلے لیکن میں اُن وزرا کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو صدر ٹرمپ کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور صدر ٹرمپ پر تنقید کے بجائے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔‘
Israel
Getty Images

’اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دُنیا میں اپنے واحد اور طاقتور اتحادی کو نشانہ نہ بناتا۔ پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا اُن میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انھیں امریکی ہنرمندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے۔‘

یہ کہنا تھا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا جو امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کا جواب دے رہے تھے۔

جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ اُنھیں اسرائیلی وزرا کے بیانات دیکھ کر بُرا لگتا ہے کہ وہ ایسے ملک کے سربراہ (ٹرمپ) کو نشانہ بنا رہے ہیں جو اُن سے ہمدردی رکھتا ہے اور دُنیا کی سپر پاور کا سربراہ ہے۔

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’گو کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اس راستے پر نہیں چلے لیکن میں اُن وزرا کو پیغام دینا چاہتا ہوں جو صدر ٹرمپ کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ اُنھیں ہوش کے ناخن لینے چاہییں اور صدر ٹرمپ پر تنقید کے بجائے زمینی حقائق کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔‘

جے ڈی وینس کی جانب سے یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب بعض اسرائیلی وزرا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر تنقید کر رہے ہیں۔ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر یہ تک کہہ چکے ہیں کہ ’ہم ٹرمپ کے اُس معاہدے کے پابند نہیں جو ہماری قومی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اِس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسرائیل اور اُس کے وزیر اعظم کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں۔

US vice President
Getty Images

جنگ بندی معاہدے کے باوجود لبنان پر حملے، بن گویر کے سخت بیانات اور ٹرمپ کی ناراضی

امریکہ، ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل بیروت میں اسرائیلی کارروائی پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کسی ایک شخص کو ڈھونڈنے کے لیے ہر بار پوری عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

اُنھوں نے کہا تھا کہ ’وہ لبنان میں اسرائیل کے طرزِعمل سے خوش نہیں۔ اگر اسرائیل سب کو مارے بغیر یہ کام ختم نہیں کر سکتا تو پھر کوئی اور کرے گا، شام یہ کرے گا۔‘

اس سے پہلے بھی امریکی صدر اپنے بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر اور پھر امریکی نائب صدر کی اسرائیل پر تنقید کو بعض ماہرین دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج قرار دے رہے ہیں۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور جنگ بندی تک دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی تھی، تاہم اپریل میں جنگ بندی اور اس دوران مذاکرات اور اب 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اسرائیل نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس معاہدے میں فریق نہیں اور لبنان پر اس کے حملے جاری ہیں۔

گذشتہ شب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب الله سے منسلک 80 اہداف کو نشانہ بنایا اور اس کے ’درجنوں‘ ارکان کو ہلاک کیا۔

یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیانمشرقِ وسطیٰ میں تنازع ختم کرنے کے مقصد سے ایک معاہدے پر دستخط کے ایک روز بعد ہوئے ہیں۔ اس معاہدے میں لبنان میں مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کا لبنان سے اپنی افواج نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس نے اصرار کیا ہے کہ حزب الله کے ساتھ اس کا تنازع ایران کے خلاف جنگ سے الگ ہے۔

ادھر حزب الله نے عہد کیا ہے کہ جب تک دراندازی جاری رہے گی وہ اپنے حملے جاری رکھے گا۔

’ہر اسرائیلی ماں کے ایک آنسو کے بدلے ایک ہزار لبنانی مائیں روئیں‘

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اندرونِ ملک اس مسلح گروہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دباؤ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹکراؤ کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جمعہ کو چار فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا کہ ’ہر اسرائیلی ماں کے ایک آنسو کے بدلے ایک ہزار لبنانی مائیں روئیں۔ پورا لبنان جل جانا چاہیے۔‘

ایکس پر ایک بیان میں اتمار بن گویر نے کہا ’امریکیوں کے لیے تمام تر احترام کے ساتھ، اسرائیل کو پوری دنیا کے سامنے واضح کرنا ہو گا کہ ہمارے بیٹوں کا خون اور ہمارے شہریوں کی سلامتی سودے بازی کے لیے دستیاب نہیں ہیں پورا لبنان جل جانا چاہیے۔ ہماری اعلیٰ ترین ذمہ داری اسرائیل کے شہریوں اور آئی ڈی ایف کے فوجیوں کا تحفظ ہے، اور یہ عزم ہر دوسری بات پر مقدم ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ نجی ملاقاتوں میں وزیرِ اعظم نتین یاہو سے کہہ چکے ہیں کہ ہر اسرائیلی ماں کے ایک آنسو کے بدلے ایک ہزار لبنانی مائیں روئیں۔

’بس بہت ہو گیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں آپ نپی تلی کارروائیوں اور ضبط سے نہیں جیتتے۔۔۔ آپ کو دیوانہ وار حملہ کرنا پڑتا ہے۔ مٹانا پڑتا ہے۔ تباہ کرنا پڑتا ہے۔ دہشت کو کچلنا پڑتا ہے۔‘

’جلد نیتن یاہو حکومت کو تبدیل نہ کیا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات ختم ہو جائیں گے‘

تاہم اسرائیل میں کچھ ایسی آوازیں بھی ہیں جو چاہتی ہیں کہ اگر امریکہ اور مغرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہیں تو نتین یاہو کی حکومت کو ختم کرنا ہو گا۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اختلاف کے رہنما یائیر لاپید بھی ان میں سے ایک ہیں۔

وہ ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’گذشتہ روز، امریکی نائب صدر ایک پریس کانفرنس میں سموتریچ اور بن گویر سے ناراض ہو گئے، وزیرِ خارجہ ساعر نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے، اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو لبنان میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے جلد اس حکومت کو تبدیل نہ کیا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات ختم ہو جائیں گے۔‘

’ہم حکمت اور درست فیصلے کے ساتھ اپنے راستے پر چلتے رہیں گے‘

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور اس میں موجود شرائط پر اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔

ایک اپوزیشن جماعت کے سربراہ اویگدور لیبرمین نے کہا کہ ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم اسرائیل کے عوام کے سامنے آئیں اور یہاں بھی اور دنیا کے ممالک کے سامنے بھی واضح کریں کہ ہم اس معاہدے کا حصہ نہیں۔‘

’ہم ایرانی محاذ اور لبنانی محاذ کے درمیان کسی بھی تعلق کو قبول نہیں کرتے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف اسرائیلی مفادات کے مطابق عمل کریں گے، نہ کہ عالمی سٹاک ایکسچینج میں ایندھن کی قیمتوں کے مطابق۔‘

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم ٹرمپ کے معاہدے کے پابند نہیں۔ ہم اس معاہدے کے فریق نہیں جو ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے مفاہمتی یادداشت پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم جمعرات کی شام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم نے غزہ سے متصل علاقوں میں سلامتی اور خوشحالی کو بحال کیا، اسی طرح ہم شمالی اسرائیل کے شہروں اور دیہات میں بھی امن یقینی بنائیں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی بفر زون کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم وہاں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہماری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی اور اب بھی مزید چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔ ہمیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور ساتھ ہی اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ رشتے کا بھی تحفظ کرنا ہے جو ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا مل کر لڑے ہیں اور ہم اس کے لیے اُن کی تعریف کرتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم حکمت اور درست فیصلے کے ساتھ اپنے راستے پر چلتے رہیں گے اور حکومت کی کامیابیوں کو محفوظ رکھیں گے، ہم جنگ کی کامیابیوں کو محفوظ رکھیں گے۔ یہ کامیابیاں اسرائیل کے تمام لوگوں کی ہیں۔‘

United States Israel
Getty Images

سوشل میڈیا پر بھی امریکی نائب صدر کے اسرائیل سے متعلق بیان پر بات ہو رہی ہے اور صارفین اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

امریکہ، اسرائیل تعلقات کے ماہر شیل بن افرائیم نے ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی حکومت اور فوج جے ڈی وینس کی تنقید پر حیران ہے اور اُنھیں یہ شک بھی ہے کہ ایسا صدر ٹرمپ کے کہنے پر کیا گیا۔

اُن کے بقول اس معاملے پر نیتن یاہو نے خود جواب دینے سے گریز کیا لیکن بعض اسرائیلی وزرا اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مشرق وسطی اُمور کے ماہر معین ربانی نے ایکس پر لکھا کہ یہ سب کچھ لفظوں کی جنگ سے زیادہ نہیں، جس میں کوئی سنجیدہ اشارہ نہیں اور نہ ہی اس کے نتیجے میں اسرائیل کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔

لیکن اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے یہ رپورٹس تھیں کہ امریکی قیادت، اسرائیل سے ناراض ہے لیکن اب اس ناراضی کا کھل کر اظہار کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار ڈومینک مائیکل نے ایکس پر لکھا کہ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو نے لبنان سے فوج نہ نکالی تو صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی ترسیل میں تاخیر کر سکتے ہیں یا مستقبل میں اسرائیل پر اسلحے کی پابندی عائد کر سکتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US