گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان مشاورت کے بعد اقتدار کی شراکت کا فارمولا طے پا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت وزیراعلیٰ کا منصب پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ گورنر گلگت بلتستان کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے بھی مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں گے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے امجد حسین ایڈووکیٹ کو گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہے۔ امجد حسین ایڈووکیٹ اس وقت پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر بھی ہیں۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ گلگت ریجن سے تعلق رکھنے والے کسی رہنما کو وزیراعلیٰ کے منصب کے لیے نامزد کیا ہے، جسے خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حالیہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستیں حاصل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، جس کے بعد حکومت سازی کے عمل میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے امجد حسین ایڈووکیٹ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں حکومت سازی کے معاملات سمیت عوام کے آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق کے تحفظ اور ان پر مؤثر عملدرآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ اشتراک گلگت بلتستان میں ایک مستحکم مخلوط حکومت کے قیام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔