ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے مفاد میں ہیں اور امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ ملک ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مسعود پزشکیان کے مطابق امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جس پر ایران نے دستخط کر دیے تھے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان آج تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ مذاکرات میں پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود ہوں گے، جبکہ دونوں ممالک ثالثی کے طور پر ایرانی اور امریکی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایران کو امید ہے کہ بات چیت کے اس نئے مرحلے سے دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کم کرنے میں مدد ملے گی۔