ایران امریکا مذاکرات - پاکستان ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرا: معروف اسرائیلی اخبار پاکستان کی تعریف پر مجبور

image

ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے معروف اسرائیلی جریدے دی یروشلم پوسٹ نے پاکستان کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان ایران مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی گرمجوش ملاقات کو سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بات چیت کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اتوار کو سوئٹزرلینڈ پہنچے جہاں امریکا، ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف قطر کے حکام سے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں خطے میں مکالمے اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا حصہ ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں جھیل لوسرن کے کنارے منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کی تصاویر اور ویڈیوز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے طرزِ عمل سے پاکستان کے لیے امریکی حمایت کا واضح پیغام دیا۔

اجلاس کے مقام پر نصب بینر پر پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران کے جھنڈے نمایاں تھے۔ اس ترتیب میں پاکستان اور قطر کے جھنڈے درمیان میں جبکہ امریکہ اور ایران کے جھنڈے دونوں اطراف موجود تھے، جسے بعض تجزیہ کار علامتی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

صحافیوں کے مطابق اجلاس کے آغاز کے دوران امریکی وفد ایرانی وفد سے پہلے ہال میں داخل ہوا۔ ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف صحافیوں کی موجودگی میں ہال میں داخل نہیں ہوئے جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سب سے آخر میں اجلاس میں پہنچے اور انہوں نے کسی سے مصافحہ بھی نہیں کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی چیف خارجہ امور نامہ نگار مارگریٹ برینن نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایرانی وفد نے اجتماعی تصویری سیشن میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ ان کے مطابق ایرانی وفد کے اجلاس میں شامل ہونے کے بعد میڈیا کو دوبارہ کانفرنس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ماضی میں ایران متعدد بار امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے گریز کرتا رہا ہے اس لیے موجودہ مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اپنی تقریر میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی قیادت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں اور طویل المدتی جوہری عزائم سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو تو امریکا بھی تعلقات میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔

اس موقع پر جے ڈی وینس نے پاکستانی قیادت کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ان کی زندگی میں دو انتہائی اہم شخصیات ہیں، ایک بھارتی ان کی اہلیہ اور دوسرے پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔

وینس نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سب سے زیادہ رابطے رکھے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے ایک مؤثر سفارت کار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شہباز شریف اور عاصم منیر نے ان کا بھرپور خیرمقدم کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے عالمی سطح پر اپنے کردار اور اہمیت کے اعتراف کا خواہاں رہا ہے۔ پاکستان اکثر خود کو خطے میں بھارت جیسے بڑے ہمسائے کے مقابلے میں سفارتی چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ماضی میں کافی مضبوط رہے ہیں، خصوصاً صدر رچرڈ نکسن کے دور سے لے کر افغان مجاہدین کی حمایت تک۔ تاہم 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئے تھے۔

اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن بھی پاکستان میں شدید تنازع کا باعث بنا تھا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ گرمجوشی کو اسلام آباد کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب، قطر اور ترکی کے ساتھ مل کر زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اسلام آباد اپنی سفارتی توجہ خطے کے مغربی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی مبصرین پاکستان اور قطر کے بڑھتے ہوئے کردار کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایران کی کمزور ہوتی پوزیشن کے بعد خطے کی سنی طاقتیں مستقبل میں زیادہ اثرورسوخ حاصل کر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ایران مذاکرات سے فائدہ اٹھانے والے اہم ممالک میں شامل ہو سکتا ہے تاہم اسلام آباد یہ بھی چاہتا ہے کہ تہران مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور کسی ممکنہ بحران یا تاخیری حکمت عملی سے گریز کرے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جے ڈی وینس اور پاکستانی قیادت کے درمیان موجود قریبی روابط ایران مذاکرات کو آگے بڑھانے اور مختلف فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US