جڑواں شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی کم عمر مگر باصلاحیت ڈاکٹر عمارہ افشین نے اپنی محنت، لگن اور عشقِ قرآن کے ذریعے ایک منفرد اعزاز حاصل کرلیا ہے۔
ڈاکٹر عمارہ کا کہنا ہے والدہ کو آٹھ سال قبل خواب آیا تھا والدہ نے خواب میں دیکھا کہ عمارہ قران پاک لکھ رہی ہے لیکن اس کے بعد عمارہ کی والدہ بھول گئیں پھر ایک دن ان کو یاد آیا کہ انہوں نے خواب میں بیٹی کو قران پاک کی خطاطی کرتے دیکھا تو والدہ نے اس بات کا ذکر کیا تو اس دن کے بعد میں نے باقاعدہ ارادہ کرلیا اور اپنا مشن اسٹارٹ کردیا۔
ڈاکٹر عمارہ افشین نے نہایت کم عمری میں قرآنِ پاک کو سونے (گولڈ) اور آبِ زم زم سے تحریر کرکے ایک غیر معمولی کارنامہ سرانجام دیا، جسے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔
ان کے اس منفرد کام نے مذہبی، علمی اور فنّی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی، جبکہ انہیں اس نمایاں کامیابی پر متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا جاچکا ہے۔
حافظہ عمارہ نے بیت اللہ کے کونے کونے میں مسجد نبوی کے کونے کونے میں اور مزدلفہ اور تمام مقدس مقامات میں جاکر قرآن پاک لکھا۔
ڈاکٹر عمارہ افشین کی زندگی کا ایک اہم اور یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے مسجد نبوی میں قرآنِ پاک کا تحفہ پیش کیا، جسے وہ اپنی زندگی کی ایک بڑی روحانی سعادت قرار دیتی ہیں۔
اہلِ علاقہ اور سماجی حلقوں نے ان کی اس کامیابی کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل کیلیے یہ ایک روشن مثال ہے کہ محنت اور لگن سے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔