امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں دونوں ممالک کی ٹیمیں مختلف امور پر تبادلہ خیال کر رہی ہیں۔ یہ تکنیکی گفتگو آنے والے دنوں اور ہفتوں تک جاری رہے گی، جس نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔
نائب صدر کا کہنا تھا کہ امریکا لبنان کے معاملے پر مناسب ہم آہنگی کو یقینی بنانے اور وہاں کشیدگی میں کمی کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن علاقائی جنگ بندی کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللہ کو کنٹرول میں رکھے۔
جے ڈی وینس نے ایک اہم کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر اتفاق کرلیا ہے، اور ان معائنہ کاروں کی تعیناتی کا عمل اسی ہفتے، بلکہ ممکنہ طور پر آج ہی سے شروع ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایک ایسا نظام قائم کرنے کا خواہش مند ہے جس کے تحت ایرانی اثاثے دہشت گردی کی مالی معاونت کے بجائے صرف ایرانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بات کا جواب نہ دیں یا حقائق کو درست نہ کریں۔