صرف دس دن کی شادی: کینسر سے جنگ کرتا دُولہا زندگی کی بازی ہار گیا

image

امریکا کی ریاست نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان جوڑے کی محبت ایک ایسی آزمائش سے گزری جو دیکھنے والوں کے دل بھی دہلا گئی۔ 27 سالہ روبی فاکس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی محبت کیلی پیٹرز کے ساتھ اسپتال کے کمرے میں شادی کی، اور صرف 10 دن بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

روبی فاکس اور کیلی پیٹرز نے 15 اپریل کو بوسٹن میں واقع کینسر اسپتال کے ایک سادہ سے کمرے میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور زندگی بھر ساتھ رہنے کا وعدہ کیا۔ اس وقت روبی ایک خطرناک اور نایاب کینسر، ایوِنگ سارکوما، کے آخری اسٹیج پر تھے۔

یہ جوڑا ایلون یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران ملا تھا، اور برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی کے خواب سجا رہا تھا۔ 2025 میں جب روبی کا علاج کامیاب ہوا اور وہ وقتی طور پر صحتیاب ہوئے تو خوشی کا ایک نیا باب شروع ہوا، مگر کچھ ہی عرصے بعد بیماری نے دوبارہ شدت اختیار کر لی اور امیدیں بکھرنے لگیں۔

وقت کے ساتھ جب روبی کی حالت بگڑتی گئی اور انہیں آخری نگہداشت میں منتقل کیا گیا تو کیلی نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس میں محبت اور درد دونوں شامل تھے۔ انہوں نے شادی کو آگے بڑھانے کا کہا تاکہ وہ وقت رہتے ایک دوسرے کے ساتھ اس رشتے کو مکمل کر سکیں۔

کیلی پیٹرز نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لیے کہا کہ اس نے یہ لمحہ اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ سمجھا، اور میرے لیے بس یہی سب کچھ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد ہی یہی تھا کہ میں اس کی دیکھ بھال کروں اور اس سے محبت کروں۔ اس نے مجھے ایسی محبت دی جو بہت پاکیزہ اور بے مثال تھی۔

شادی کا دن مزید خاص اس لیے بھی تھا کہ یہ ان کی پہلی ملاقات کی آٹھویں سالگرہ تھی۔ اسپتال کے کمرے میں اہل خانہ اور دوستوں کی موجودگی میں جب دونوں نے ایک دوسرے کو قبول کیا تو وہ لمحہ خوشی اور اداسی کے ملے جلے جذبات سے بھر گیا۔

مگر یہ خوشی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ 25 اپریل کو، شادی کے صرف 10 دن بعد، روبی فاکس خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے کی خبر نے ہر اس شخص کو رلا دیا جو اس محبت کی کہانی کا گواہ تھا۔

کیلی پیٹرز کے لیے یہ صرف ایک جدائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی محبت کی یاد تھی جو مختصر ضرور رہی مگر اپنی گہرائی میں ہمیشہ کے لیے دلوں میں زندہ رہے گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US