ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کے اجرا کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں، جہاں جہازوں کی آمدورفت کے لیے رابطے کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔
قالیباف کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں جس کے بعد ایران آئندہ دو ماہ تک امریکا سمیت عالمی منڈی میں اپنی پیٹرولیم مصنوعات فروخت کر سکے گا۔ ایران نے پابندیوں میں نرمی اور بعض اثاثوں کی بحالی کی بھی تصدیق کی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کے مطابق شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین پر ایرانی تیل کی خریداری سے متعلق پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔