وہ ’پُراسرار‘ قطری ثالث جو پسِ پردہ رہتے ہوئے امریکہ، ایران مذاکرات کا حصہ بنا

علی الزوادی کو ایک ’پراسرار قطری ثالث‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو شہ سرخیوں میں رہنے کی بجائے صرف عملی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
قطر
Getty Images
یہ تصویر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے گذشتہ ستمبر میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کی ہے جس میں قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کے دائیں جانب علی الزوادی کو دیکھا جا سکتا ہے

قطری وزیر علی الزوادی ان رہنماؤں اور اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست میں شامل تھے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مئی کو اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر تمام معاملات حتمی مراحل تک پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ان رہنماؤں کو مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

واشنگٹن اور تہران کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے اعلان کے فوراً بعد میڈیا نے پاکستان کے ساتھ ساتھ قطر کی ثالثی کے کردار کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا اور توجہ خاص طور پر اس قطری وزیر کی طرف مبذول ہوئی ہے۔

چند امریکی رپورٹس کے مطابق علی الزوادی نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے اعلان سے قبل صرف 10 دن میں چار بار تہران کا سفر کیا۔

امریکی میڈیا میں علی الزوادی کو ایک ’پراسرار قطری ثالث‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو شہ سرخیوں میں رہنے کی بجائے صرف عملی کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

علی الزوادی شاید قطر کے خاموش سفارت کاری کے طریقہ کار کی بہترین مثال ہیں۔ وہ شاذ و نادر ہی عوامی نظروں میں آتے ہیں، سفارتی حلقوں سے باہر ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اور ان کا کوئی سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی نہیں۔

اس کے باوجود حالیہ برسوں میں علی الزوادی سب سے زیادہ بااثر سفارتی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں، ان کا نام غزہ جنگ سے متعلق مذاکرات اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں اکثر اہم موڑ پر سامنے آیا۔

شہ سرخیوں سے دور سفارت کار

علی الزوادی قطری حکومت میں وزارتی عہدے پر فائز ہیں لیکن وہ کسی مخصوص وزارت کے سربراہ نہیں۔

اکتوبر 2025 میں وائٹ ہاؤس سے ایک تصویر سامنے آنے کے بعد علی الزوادی کا کردار میڈیا میں بحث کا موضوع بنا رہا۔

اس تصویر میں ٹرمپ اور متعدد امریکی حکام اوول آفس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ نظر آتے ہیں۔

اس تصویر میں نیتن یاہو فون پر قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے دوحہ میں اسرائیلی حملے پر معافی مانگتے نظر آتے ہیں۔ گذشتہ سال 9 ستمبر کو ہونے والے اس حملے میں اسرائیل نے مبینہ طور پر حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

تصویر میں ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ تصویر میں اس شخص کا چہرہ پوری طرح سے واضح نہیں تھا کیونکہ وہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے پیچھے بیٹھے تھے تاہم فلسطینی نژاد امریکی سیاسی تجزیہ کار اور بلاگر احمد فواد خطیب نے ان کی شناخت علی الزوادی کے نام سے کی اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے بعد میں نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی تھی۔

اسرائیلی اخبار يديوت احرونوت کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ الزوادی قطر سے معافی مانگنے کے وقت موجود تھے لیکن اس بات کی تردید کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم اور کسی بھی قطری عہدیدار کے درمیان کوئی ملاقات ہوئی۔

9 اکتوبر کو واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں صحافی ڈیوڈ اگنٹیئس نے لکھا کہ ’الزوادی وٹکوف کی طرح ایک عملی کھلاڑی ہیں جو لوگوں کی توجہ سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

11 اکتوبر کو برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں شائع ہونے والے ایک مضمون ’پراسرار قطری ثالث جس نے ٹرمپ کے غزہ معاہدے کو تباہ ہونے سے بچایا‘ میں صحافی راب کریلے نے لکھا کہ دوحہ نے غزہ امن مذاکرات کو بچانے کے لیے ’مشکل کاموں کے لیے مخصوص آدمی‘ الزوادی کو واشنگٹن بھیجا گیا۔

پولیٹیکو اخبار کی ایک رپورٹ میں نیتن یاہو اور قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے درمیان ہونے والی فون کال سے واقف تین نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے قطری مدد سے نیتن یاہو کی معافی کا مسودہ تیار کیا اور ’قطر کا طاقتور ثالث اور وزیر اعظم کے قریبی ساتھی اوول آفس میں موجود تھے۔‘

7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں قطر نے کلیدی کردار ادا کیا۔

قطر نے علی الزوادی کے کردار کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی لیکن جنوری میں انھوں نے غزہ کے لیے ایگزیکٹو کونسل میں اپنے نمائندے کے طور پر ان کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔

قطری انٹرنیشنل میڈیا آفس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’علی الزوادی نے ثالثی کی کوششوں اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات میں سہولت کاری میں نمایاں کردار ادا کیا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔‘

’غیر معمولی مذاکرات کار‘

متعدد پریس رپورٹس کے مطابق قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے 17 جون کے ایڈیشن میں لکھا کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ’ایک غیر معمولی مذاکرات کار علی الزوادی کے ساتھ کام کیا۔ عوام کی نظروں سے اوجھل علی الزوادی غزہ امن مذاکرات، وینزویلا فائل اور ٹرمپ کے دور میں وائٹ ہاؤس کی دیگر فائلوں میں اہم ایلچی تھے اور انھوں نے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ بھی ثالثی کی کوششوں میں حصہ لیا تھا۔‘

نیویارک ٹائمز نے اسی دن شائع ہونے والے اپنے ایڈیشن میں اشارہ کیا کہ امریکہ اور ایران نے قطریوں سے کہا تھا کہ وہ ان کے درمیان ثالثی کریں لیکن جب تک کہ ان کا ملک ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کی زد میں تھا تو قطر نے انکار کر دیا۔ تاہم جنگ بندی کے نفاذ اور مذاکرات کے تعطل کے بعد مئی کے وسط کے بعد صورتحال بدل گئی اور اس موقع پر دوحہ نے نمایاں ثالثی کا کردار ادا کرنا شروع کیا۔

اخبار نے مزید کہا کہ ’قطر کے دو اہم مذاکرات کار علی الزوادی اور حماد الکوبایسی تفصیلات پر کام کرنے کے لیے تہران گئے۔‘

18 جون کو روئٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پانچ پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات تقریباً کئی بار ناکام ہوئے۔ ان میں سے دو ذرائع اور مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار نے مزید کہا کہ فریم ورک معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے قطری مداخلت کی ضرورت تھی لیکن انھوں نے کسی بھی قطری مذاکرات کار کا نام نہیں لیا۔

شاید ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں سعودی ولی عہد، متحدہ عرب امارات کے صدر، قطر کے امیر، مصر اور ترکی کے صدور اور اردن اور بحرین کے بادشاہوں جیسے رہنماؤں کے ساتھ علی الزوادی کا ذکر، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ قطری عہدیدار نے اس ساری پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔

قطر، پاکستان، امریکہ
Getty Images

فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے خفیہ مہم چلانے کا الزام

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے جولائی 2018 میں الزام لگایا تھا کہ 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر کی بولی کی ذمہ دار کمیٹی نے آسٹریلیا اور امریکہ کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے صحافیوں، بلاگرز اور دیگر اہم شخصیات کو بھرتی کیا تھا۔

اخبار نے کہا تھا کہ اس نے ایسی ای میلز دیکھی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قطر ان منصوبوں سے آگاہ تھا۔ اخبار کے مطابق علی الزوادی نے بھی اس مقصد کے لیے ایک پبلک ریلیشن فرم کی خدمات حاصل کیں، جو اس وقت قطر کی بولی کے لیے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

الزوادی کا نام ڈیموکریٹک امریکی سینیٹر باب مینینڈیز کے کیس میں بھی سامنے آیا، جنھیں گزشتہ سال بدعنوانی اور رشوت وصول کرنے کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی۔

استغاثہ نے امریکی سینیٹر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے مصر کے لیے امریکی امداد کے بدلے رشوت وصول کی اور اپنے اثر و رسوخ اور رابطوں کو ’قطری حکومت کی خدمت کے لیے‘ استعمال کیا۔

استغاثہ کے مطابق باب مینینڈیز نے الزوادی سے کہا کہ وہ ان کی اہلیہ کے ایک رشتہ دار کو سنہ 2022 میں میامی میں ہونے والے فارمولا ون مقابلوں کے ٹکٹ دیں۔ امریکی سینیٹر نے قطری وزیر کو ٹکٹوں کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ٹیکسٹ پیغام بھی بھیجا، جس کا متن دی ٹیلی گراف نے شائع کیا تھا۔

واضح رہے کہ قطر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے آسٹریلیا اور امریکا کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے خفیہ مہم چلانے کے الزامات کی تردید کرتا ہے اور مینینڈیز کیس میں الزوادی کے خلاف کسی غلط کام کا کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US