آڈیٹر جنرل کی رپورٹ آگئی، وفاقی کھاتوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

image

آڈیٹر جنرل کی جاری کردہ آڈٹ سال 2025-26 کی رپورٹس میں مالی سال 2024-25 کے وفاقی کھاتوں میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں، کمزور مالیاتی نگرانی اور کھربوں روپے کے غیر منظور شدہ اخراجات کا انکشاف کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 3454 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس حاصل کیں، تاہم ان میں سے 3177 ارب روپے، جو کل رقم کا 92 فیصد بنتے ہیں، پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظوری حاصل نہ کر سکے۔ آڈٹ حکام نے اس صورتحال کو آئینی اور پارلیمانی تقاضوں سے انحراف قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اصل زر قرض کی ادائیگی کے لیے 1833 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس جاری کی گئیں، تاہم اس رقم کی حقیقی ضرورت کا مناسب جائزہ نہیں لیا گیا، جس کے باعث اضافی اخراجات سامنے آئے۔ اسی طرح ایک اور معاملے میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ حتمی گرانٹ سے 187 ارب روپے زائد خرچ کیے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وفاقی اداروں نے 3809 ارب روپے کے بجٹ مطالبات پیش کیے، لیکن ان کے لیے درکار مالی ضرورت کا خاطر خواہ تخمینہ نہیں لگایا گیا، جس سے بجٹ سازی کے عمل کی شفافیت اور مؤثریت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 115 وفاقی ادارے 87 ارب روپے کی مختص شدہ رقم استعمال نہ کر سکے، جو بعد ازاں لیپس ہو گئی، جبکہ 41 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس بھی غیر استعمال شدہ رہیں۔

آڈیٹر جنرل نے آئینی اور مالیاتی ضابطوں کی متعدد خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے 7 ارب روپے کی غیر معمولی منتقلی آئین کے آرٹیکل 78 سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کے علاوہ 24 ارب روپے کی غیر مطالبہ شدہ رقوم کو ڈیڈ اکاؤنٹس سے سرکاری کھاتوں میں منتقل نہ کرنے کا معاملہ بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں سرکاری اکاؤنٹنگ اور مالیاتی رپورٹنگ کے نظام میں سنگین خامیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں قرضوں اور نقصانات کی رپورٹس کی عدم تیاری، مستقل اثاثوں اور واجبات کے رجسٹرز کی عدم موجودگی اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ کے انفرادی اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہ رکھنا شامل ہے۔

آڈیٹر جنرل کے مطابق بیشتر وفاقی اداروں میں فعال داخلی آڈٹ یونٹس موجود نہیں، جبکہ کئی اداروں میں چیف انٹرنل آڈیٹرز کی تقرری بھی عمل میں نہیں لائی گئی، جس کے باعث داخلی نگرانی کا نظام کمزور رہا اور مالی بے ضابطگیوں کے امکانات میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں خرد برد، بدعنوانی اور جعلی ادائیگیوں کے دو کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 82 معاملات میں رقوم کی وصولی کی سفارش اور 78 کیسز میں کمزور داخلی کنٹرول کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ سرکاری فنڈز میں خرد برد اور بدعنوانی کے سنگین معاملات مزید کارروائی کے لیے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے سپرد کیے جائیں۔

آڈٹ رپورٹ کے انکشافات نے وفاقی حکومت کے مالیاتی نظم و نسق، شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور احتسابی نظام کی مؤثریت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US