واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے امریکی عوام کو کنفیوژن، افراتفری اور بھاری مالی بوجھ کے سوا کچھ نہیں دیا۔
اپنے بیان میں چک شومر کا کہنا تھا کہ جنگ کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امریکی عوام پر اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف اس پالیسی کی قیمت امریکی عوام کو چکانا پڑی اور یہ فیصلہ ایک تاریخی غلطی ثابت ہوا۔
ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ یہ تنازع تاریخ میں نہ صرف امریکا بلکہ کسی بھی ملک کی جانب سے اختیار کی گئی بدترین خارجہ پالیسی مہمات میں شمار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مہنگی اور بے مقصد جنگ ہے جس کا کوئی واضح ہدف یا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
چک شومر نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق جنگی صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرے۔