ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی سے متعلق فیصلے صرف خطے کے ممالک کو کرنے چاہئیں، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ امریکا کی شکست کا اعتراف ہے۔
باکو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی پالیسی خطے کی سلامتی کو علاقائی ممالک کے ذریعے یقینی بنانے پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران باہمی احترام، خودمختاری کے احترام اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی اسپیکر نے لبنان اور ایران میں جنگ بندی کو یکساں اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کسی دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کا مظہر ہے۔ ان کے بقول یہ معاہدہ دراصل امریکا کی ناکامی اور ایران کے مؤقف کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے قبل باکو پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ حالیہ جنگ کے بعد خطے کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور اب ایران کو ایک نئے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔