یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈین حکومت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے فضائی جھڑپوں کے لگ بھگ ایک سال بعد پہلی مرتبہ ان چھ فوجی اہلکاروں کے نام سرکاری طور پر ظاہر کیے ہیں جو اس تنازع کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد حکومت کو اس معاملے پر اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انڈیا کی وزارتِ دفاع نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے 2025 میں ’آپریشن سندور‘ سے متعلق پارلیمانی بیان کی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی۔
یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈین حکومت نے مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے فضائی جھڑپوں کے لگ بھگ ایک سال بعد پہلی مرتبہ ان چھ فوجی اہلکاروں کے نام سرکاری طور پر ظاہر کیے ہیں جو اس تنازع کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد حکومت کو اس معاملے پر اپوزیشن اور سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یاد رہے اپریل 2025 کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ ایک ماہ انڈیا نے پاکستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کارروائی کو سرکاری سطح پر ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے بھی دفاعی اور جوابی کارروائی کی گئی تھی جسے سرکاری سطح پر ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیا۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران انڈیا کے جنگی طیارے بھی تباہ ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 13 مئی کو بتایا تھا کہ ان کارروائیوں میں پاکستانی مسلح افواج کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں چھ کا تعلق بری فوج جبکہ پانچ کا پاکستانی فضائیہ سے تھا۔ پاکستان کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کی گئی تھی اور انھیں اگست 2025 میں فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔
تاہم 26 جون 2026 کو پہلی بار انڈین حکومت نے اس فوجی تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے چھ ناموں کی فہرست نیشنل وار میموریئل کی ویب سائٹ پر ’رول آف آنر‘ میں شائع کی گئی ہے۔
واضح رہے 28 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن سے کہا تھا ’اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھیں کہ کیا اس آپریشن میں ہمارے بہادر سپاہیوں کو کوئی نقصان پہنچا، اس کا جواب نہیں ہے۔‘
وزارتِ دفاع کے بیان میں کیا کہا گیا ہے؟

وزارت دفاع نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی بعض پوسٹس میں وزیر دفاع کے 28 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ میں دیے گئے خطاب کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں تقریر کے ایک محدود حصے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ’آپریشن سندور کے دوران کوئی بھی انڈین فوجی ہلاک نہیں ہوا۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دعوے گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
بیان کے مطابق ’بعض عناصر نے وزیر دفاع کے پارلیمانی خطاب پر تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے مکمل ریمارکس کو نظر انداز کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ تاثر عام کیا جا رہا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران انڈین پائلٹس ہلاک ہوئے تھے، تاہم یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط تھا۔‘
بیان کے مطابق ’اس غلط بیانی کو دانستہ طور پر آپریشن کی کامیابی کو کمزور کرنے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے پھیلایا جا رہا تھا۔ وزیر دفاع کا بیان اسی مخصوص اور گمراہ کن تاثر کے جواب میں دیا گیا تھا۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیر دفاع کے خطاب کو مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جو آپریشن سندور کی کامیابی کا تفصیلی اور فخر سے بھرپور اظہار تھا۔ اس آپریشن کے دوران انڈین مسلح افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔‘
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’اس کارروائی میں 100 سے زائد دہشت گرد اور پاکستانی فوجی مارے گئے جبکہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ پاکستانی فضائیہ کے اڈوں اور دیگر اہم فوجی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حکومت نے ہلاک ہو جانے والوں کی قربانیوں کے اعتراف میں ان کے نام نیشنل وار میموریل پر درج کیے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات میں خصوصی رعایتوں کو یقینی بنایا ہے۔‘
ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پاون کمار، 4 جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (جنھیں ویر چکرا سے نوازا گیا)، 5 فیلڈ ریجیمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ ریجیمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائیک اور 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ شامل ہیں۔
جبکہ انڈین فضائیہ کی 38 ونگ کے سارجنٹ سریندر کمار کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جنھیں وایو میڈل سے نوازا گیا تھا۔
انڈین میڈیا کے مطابق ان چھ اہلکاروں کے نام نئی دہلی میں نیشنل وار میموریئل کے تیاگ چکرا پر درج کیے جائیں گے۔
ان اہلکاروں کے نام 2025 کے دوران مختلف فوجی کارروائیوں میں ’عظیم قربانی دینے والے مسلح افواج کے اہلکاروں‘ کی سالانہ فہرست کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں۔
انڈیا کی آزادی کے بعد تمام ایسے سپاہیوں کے نام، رینک اور یونٹ تیاگ چکرا (گرینائٹ کی 16 دیواروں) پر درج کیے جاتے ہیں جنھوں نے ’قوم کی خدمت میں اپنی جان قربان کی۔‘
11 مئی 2025 کی بریفنگ کے دوران انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے تصدیق کی تھی کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج کے پانچ اہلکار ہلاک ہوئےاس پیشرفت پر بہت سے انڈین صارفین نے بھی اپنی رائے ظاہر کی ہے۔
صحافی انوشا روی سود نے لکھا کہ ’مودی حکومت کو آپریشن سندور کے دوران اپنی جان قربان کرنے والے فوجیوں کے نام سرکاری طور پر جاری کرنے میں 400 دن لگے ہیں۔‘
تاہم صحافی سنیشن الیکش فلپ کا کہنا تھا کہ 11 مئی کی پریس کانفرنس میں انڈین ڈی جی ایم او نے تسلیم کیا تھا کہ آپریشن سندور میں پانچ فوجیوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ انڈین فضائیہ کے سربراہ فضائیہ کے ہلاک ہونے والے اہلکار کے گھر بھی گئے تھے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ان جوانوں کو ویر چکرا سمیت بہادری کے مختلف اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
انڈیا میں ویر چکرا میدان جنگ میں بہادری کے اعتراف میں دیا جانے والا تیسرا سب سے بڑا سرکاری اعزاز ہے۔ رواں ماہ کے آغاز پر انڈین فوج نے رائفل مین سنیل کمار کو بعد از مرگ ویر چکرا سے نوازا تھا اور انڈین حکومت کی طرف سے جاری کردہ فہرست میں سنیل کمار کا 'ڈیٹ آف ایکٹ' 10 مئی 2025 لکھا گیا تھا۔
ایک دوسرے صارف نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں وہ بیان شیئر کیا اور کانگریس سے منسلک ایک اور اکاؤنٹ ڈاکٹر پوجا ترپاٹھی نے لکھا کہ ’لیکن راج ناتھ سنگھ جی نے تو کہا تھا کہ آپریشن سندور میں ہمارے کسی بھی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا تھا۔‘
انڈین اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پاون کھیرا نے ایکس پر لکھا کہ مرنے والے جوانوں کے نام ’قومی شعور میں نقش ہو جانے چاہییں تھے۔۔۔ لیکن اس کے بجائے پورے ایک سال تک بی جے پی حکومت نے اُن کی شہادت کو قوم سے پوشیدہ رکھا۔‘
’وہی حکومت جو خود کو قومی پرچم میں لپیٹتی ہے اور قوم پرستی کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس نے ان ہیروز کو اس طرح تسلیم نہیں کیا جس کے وہ مستحق تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔‘
اگرچہ اس ٹویٹ کو کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے بھی ری پوسٹ کیا تاہم اس پر بی جے پی کے حامی اکاؤنٹ نے کڑی تنقید کی ہے۔ جیسے ہتیش ستاوت نے لکھا کہ ’آپ نے ووٹوں اور ٹی آر پی کے لیے ہمارے شہدا کے خون کو بے شرمی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔‘
کانگریس سے منسلک ایک اور اکاؤنٹ وکرم سوامی نے رائے دی کہ ’ہمیں پورے ایک سال تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان بہادر جوانوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر دی تھیں۔‘
’وہ حکومت جو دوسروں سے حب الوطنی کے ثبوت مانگتی ہے اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی ہے، دراصل وہی حکومت ہے جس نے ان قومی ہیروز کو اس اعتراف اور اعزاز سے محروم رکھا۔‘