وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پراسیسنگ کے معاملے میں مزید کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے تین چینی اور دو پاکستانی ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا، جنہیں آئندہ سماعت کے لیے پیر کے روز دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران ایف آئی اے اور ہوٹا کی مشترکہ ٹیم نے اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں ایک اور کارروائی کی، جہاں سے انسانی اعضا، خصوصاً پلسنٹا (Placenta)، کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلسنٹا کو پراسیس کرکے ریفریجریٹرز میں محفوظ کیا گیا تھا جبکہ درجنوں کنٹینرز بھی قبضے میں لے لیے گئے۔
چھاپے کے دوران مزید دو پاکستانی ورکرز، امجد اقبال اور محمد ناصر، کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا، جو ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی ایڈمن آفیسر حنا کنول کی درخواست پر قائم کیا گیا۔
مزید تفتیش کے لیے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل عمر ارسلان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں سب انسپکٹر کاشف سعید، سب انسپکٹر محمد جنید اور ایس آئی تابش شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق پراسیس شدہ مصنوعات “شی پلیسینٹا” کے نام سے بیرون ملک، خصوصاً ویتنام برآمد کی جاتی تھیں۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ روز ایف سیون اسلام آباد میں کارروائی کرتے ہوئے تین چینی شہریوں اور دو پاکستانیوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ اس کارروائی میں بڑی مقدار میں تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلسنٹا بھی برآمد کیا گیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔