ایران پر پھر امریکی حملے، جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا، ٹرمپ

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فضائی حدود اور فوجی دستوں نے ایران کے اندر متعدد فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

امریکی حکام اور سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ان تازہ فضائی حملوں میں ایرانی فوج کے میزائل اور ڈرون اسٹوریج (ذخیرہ کرنے کے مقامات)، ساحلی ریڈار سائٹس، فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ فوجی کارروائی خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب ایک بین الاقوامی تجارتی مال بردار بحری جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد عمل میں لائی گئی، جس کے بارے میں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ چند روز قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے (اسلام آباد میمورنڈم) کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں تہران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ بندی کے معاہدے کا احترام نہ کیا گیا اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند نہ ہوئے تو امریکہ مزید سخت فوجی اقدامات کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، علاقائی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے بعد جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایران کی جانب سے بھی ردعمل کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جس سے خطے میں تناؤ ایک بار پھر انتہائی سنگین حد تک بڑھ گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US