ایران نے خلیجی ممالک کو مشترکہ علاقائی سیکیورٹی نظام کے قیام کی پیشکش کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ خطے کی سلامتی سے متعلق فیصلے علاقائی ممالک کو خود کرنے چاہییں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ سیکیورٹی معاہدے میں اقتصادی تعاون کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ بیرونی فوجی طاقتوں کو اس نظام سے دور رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خلیجی ممالک متحد ہو جائیں تو انہیں کسی بیرونی قوت یا ملک کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کی ذمہ داری صرف ایران کی ہے اور کسی دوسرے فریق کی مداخلت صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور حملوں کا خاتمہ امریکا کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے کا لازمی جزو ہے، جبکہ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران مفاہمتی یادداشت پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کا خواہاں ہے، تاہم امریکا اور اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے تمام علاقائی ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔