ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر میں منجمد کیے گئے مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کے ایرانی اثاثوں میں سے آدھی رقم یعنی 6 ارب ڈالرز جلد جاری کردیے جائیں گے۔
اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے ایرانی صدر کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایران کے کسی بھی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیجی علاقے میں کشیدگی شدید ہو گئی ہے اور ایران کی جانب سے بحرین اور کویت کو ڈرون و میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔
ایران نے اس حوالے سے واضح خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر روک دے گا، جس کے باعث خطے میں تناؤ کے مزید بڑھنے کا شدید خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔