اولیویا کا کہنا ہے کہ پہلے پہل تو ویسٹ ووڈ انھیں اداکاری سکھاتے ہوئے پُرسکون نظر آتے تھے اور وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی تھیں۔ تاہم اولیویا کے مطابق اداکاری سکھانے کی تیسری نشست کے دوران ویسٹ ووڈ نے انھیں اپنے سامنے کپڑے بدلنے کو کہا اور دعویٰ کیا کہ پردے کے پیچھے ایسا ہونا عام سی بات ہے اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ کنواری ہیں۔
الیگزینڈر ویسٹ ووڈ نے اولیویا کا ریپ کیا تھاانتباہ: اس تحریر میں شامل تفصیلات کچھ قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
ایک خاتون، جن کا 16 برس کی عمر میں انھیں اداکاری سکھانے والے استاد نے ریپ کیا تھا، کا کہنا ہے کہ ان کے سابق استاد نے انھیں خود سے گھن محسوس کروائی اور ان کا اداکاری کرنے کا خواب تباہ کر دیا۔
اس استاد نے نیٹ فلکس کے شو ’سیکس ایجوکیشن‘ میں بھی ایک کردار نبھایا ہے۔
اولیویا وودارووچ، جنھوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نے دسمبر 2020 میں الیگزینڈر ویسٹ ووڈ سے اداکاری کی تربیت حاصل کرنا شروع کی تھی۔ ان کی والدہ کی ویسٹ ووڈ سے ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ان کے فلیٹ کی تزئین و آرائش کے کام میں مصروف تھیں۔
اولیویا کو ایک محفوظ ماحول میں ہونا چاہیے تھا لیکن شروپشائر کے علاقے البرائٹن سے تعلق رکھنے والے ویسٹ ووڈ نے اداکاری سکھانے کے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا ریپ اور جنسی استحصال کیا۔
فروری 2025 میں ویسٹ ووڈ کو 26 بچوں اور ان سے اداکاری سیکھنے والے دو شاگردوں کے خلاف 26 جرائم کا ارتکاب کرنے پر ساڑھے 15 برس قید کی سزا سنائی گئی۔
فروری 2025 میں ویسٹ ووڈ کو 26 بچوں اور ان سے اداکاری سیکھنے والے دو شاگردوں کے خلاف 26 جرائم ارتکاب کرنے پر ساڑھے 15 برس قید کی سزا سنائی گئیاولیویا کا کہنا ہے کہ پہلے پہل تو ویسٹ ووڈ انھیں اداکاری سکھاتے ہوئے پُرسکون نظر آتے تھے اور وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی تھیں۔ تاہم اولیویا کے مطابق اداکاری سکھانے کی تیسری نشست کے دوران ویسٹ ووڈ نے انھیں اپنے سامنے کپڑے بدلنے کو کہا اور دعویٰ کیا کہ پردے کے پیچھے ایسا ہونا عام سی بات ہے۔ اولیویا کا کہنا ہے کہ ویسٹ ووڈ نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ کنواری ہیں۔
اولیو کا کہنا ہے کہ جنوری 2021 میں، جب وہ 20 برس کی تھیں، ویسٹ ووڈ نے انھیں اپنے سامنے جنسی تسکین حاصل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ ان کے استاد ہیں اور انھیں ’جو وہ کہیں گے کرنا پڑے گا۔‘
اسی مہینے ویسٹ ووڈ نے اولیویا کا ریپ کیا۔
اولیویا کہتی ہیں کہ ’انھوں نے کہا کہ وہ مجھے جنسی تسکین حاصل کرنا سکھائیں گے اور پھر انھوں نے اپنے ہاتھ میری پتلون میں ڈالنا شروع کر دیے۔‘
’اس کے بعد انھوں نے میرا ریپ کیا۔ میں درد کی شدت سے چیخنا چاہتی تھی۔‘
’میں منجمد سی ہو گئی تھی، آنسو میرے چہرے پر گر رہے تھے اور انھوں نے میرے ہاتھ ایک طرف کر دیے تھے تاکہ میں انھیں دھکا نہ دے سکوں۔ اس طرح میں نے اپنا کنوارا پن کھو دیا۔‘
اولیویا کا کہنا ہے کہ بعد میں اسی مہینے نیٹ فلکس کی سیریز برجرٹن کا ایک سین پڑھنے کے بعد ویسٹ ووڈ نے ان سے اورل سیکس کرنے کا مطالبہ کیا۔
جب انھوں نے اداکاری کی مزید کلاسز لینے سے انکار کیا تو ویسٹ ووڈ نے انھیں بتایا کہ وہ کنٹریکٹ کے تحت 365 کلاسز لینے کی پابند ہیں ورنہ انھیں 36 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔
اولیویا کہتی ہیں کہ ویسٹ ووڈ نے انھیں کہا کہ اگر وہ کلاسز نہیں لیں گی تو وہ ان کی والدہ کو فون کر کے پوچھیں گے کہ اولیویا کہاں ہیں۔
اس کے بعد اولیویا کو محسوس ہوا جیسے ان کی آواز بلند کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہو۔
اولیویا اداکار بننا چاہتی تھیںاولیویا کہتی ہیں کہ ویسٹ ووڈ نے مجموعی طور پر چار مرتبہ ان کا ریپ کیا۔ انھوں نے اگست 2021 میں اپنی والدہ اور پولیس کو اس بارے میں بتایا لیکن ابتدائی طور پر ناکافی شواہد کے سبب یہ کیس بند کر دیا گیا تھا۔
تاہم اپریل 2023 میں دیگر متاثرین کے سامنے آنے کے بعد یہ تحقیقات ایک بار پھر شروع کی گئیں۔
ان متاثرین میں ایک لڑکی بھی شامل تھی، جس کے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ چھ برس کی تھیں اور ویسٹ ووڈ کی عمر 10 برس تھی۔ ان میں نو سے 10 برس عمر کا ایک لڑکا، ایک خاتون اور اداکاری سیکھنے والی ایک نوعمر طالبہ بھی شامل تھیں، جن کے ساتھ بعد میں ویسٹ ووڈ نے بدسلوکی کی۔
اولیویا اب 21 برس کی ہیں، ڈرامے میں گریجویشن کر چکی ہیں اور ویسٹ مڈلینڈز میں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں آج بھی نہاتے وقت اپنے جسم کو زور زور سے رگڑتی ہوں اور مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔‘
’اگر میرے بچے ہوئے تو وہ بھی ان ہی سڑکوں پر چلیں گے، جن پر وہ (ویسٹ ووڈ) چلتے ہیں۔‘
’انھیں جو سزا دی گئی، اس سے کہیں زیادہ عرصے تک جیل میں سڑنا چاہیے۔‘
ماضی کا سوچ کر 21 سالہ اولیویا کہتی ہیں کہ کاش اُس وقت گھر پر استعمال کی جانے والی ڈی این اے سیلف ٹیسٹ کٹس دستیاب ہوتیں، کیونکہ انھیں فرانزک معائنے کے لیے خود جا کر معائنہ کروانا پڑا تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وہ میری اندام نہانی میں کیمرا ڈال کر دیکھتے تھے کہ کہیں کسی چیز کو نقصان تو نہیں پہنچا۔ میں اپنی والدہ کا ہاتھ تھام کر روتی رہتی تھی۔‘
’کاش میں یہ گھر پر کر سکتی۔ یہ میرے لیے کہیں کم تکلیف دہ تجربہ ہوتا، کیونکہ آخری ریپ کے واقعے کو کئی ماہ گزر چکے تھے، اس لیے اس معائنے میں نہ کوئی جسمانی نقصان ظاہر ہوا اور نہ ہی کوئی ثبوت ملا۔‘
الیویا کہتی ہیں کہ ڈرامہ کی ڈگری کرنے کے دوان ریپ اور جنسی اسحتصال کے حوالے سے ہونے والی بات چیت ان کے لیے تکلیف دہ تھیںیہ مقدمہ بالآخر نومبر 2024 میں وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ میں سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ عدالت میں بیان دیتے ہوئے اور وکلائے صفائی کی جرح کا سامنا کرتے وقت ان کا پختہ ارادہ تھا کہ وہ ’کمزوری کی کوئی علامت ظاہر نہیں کریں گی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ان (ویسٹ ووڈ) کے ساتھ ایک کمرے میں ہونے سے کراہت محسوس ہوئی۔‘
سزا سناتے ہوئے جج نیل چاولہ نے کہا کہ ویسٹ ووڈ نے اپنی ’محدود شہرت‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنایا اور یہ کہ اداکاری کی کلاسز دراصل ’جنسی بدسلوکی کا ایک بہانہ‘ تھیں۔
اولیویا کہتی ہیں کہ ڈرامہ کی ڈگری کرنے کے دوان ریپ اور جنسی اسحتصال کے حوالے سے ہونے والی بات چیت ان کے لیے تکلیف دہ تھیں اور اس دوران انھیں کھانے پینے اور رومانوی تعلقات استوار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام پر اپنی کہانی اور جسمانی خوداعتمادی سے متعلق پیغامات شیئر کرنے کے بعد وہ خود کو ’زیادہ پراعتماد‘ محسوس کرتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: ’میں چاہتی ہوں کہ دوسرے لوگ بھی خود سے محبت کرنا سیکھیں اور آپ کو زندگی میں آگے بڑھنا سیکھنا ہوتا ہے۔‘
مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے اولیویا نے کہا کہ انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب اداکاری کو بطور پیشہ اختیار نہیں کرنا چاہتیں۔
انہوں نے کہا: ’میں اب اس شعبے سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی۔ ویسٹ ووڈ نے اسے میرے لیے ہمیشہ کے لیے برباد کر دیا ہے۔‘