سعودی عرب کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 کی عالمی رینکنگ میں 28ویں نمبر پر ہے جبکہ سعودی شہری اِس کھیل میں کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ سعودی عرب کی کرکٹ ٹیم میں بھی بڑی تعداد پاکستانی اور انڈین نژاد شہریوں کی ہے۔ کرکٹ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ حالیہ اقدامات کی بدولت سعودی عرب میں یہ کھیل فروغ پائے گا۔
گذشتہ دنوں پاکستان اور سعودی عرب نے جدہ میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جدید سہولیات سے آراستہ یہ سٹیڈیم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی معاونت سے تعمیر کیا جائے گا۔
ایم او یو پر دستخط وفاقی وزیرِ داخلہ اور پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئے ہیں۔
سعودی کرکٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جدہ میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کا حصہ ہے۔
خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن 2030کا مقصد سعودی عرب کو جدیدیت اور تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کر کے ملک میں سیاحت، کھیل اور دیگر شعبوں کو فروغ دینا ہے۔
سعودی عرب میں کرکٹ کو بطور کھیل زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہے اور یہاں کے مقامی باشندے فٹبال میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، تاہم انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے لاکھوں تارکین وطن کی یہاں موجودگی کے باعث یہاں کرکٹ ٹورنامنٹ ہوتے رہتے ہیں۔
اور اب اِس ایم او یو کے تحت جدہ میں بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے لیے سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ سامنے لایا گیا ہے۔
سعودی کرکٹ فیڈریشن یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس سٹیڈیم کی لاگت یا اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے، تاہم کرکٹ تجزیہ کار اس پیش رفت کو سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب میں کرکٹ کے کھیل کو وسعت دینے میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک مل کر اس شعبے میں ایسی شراکت داری قائم کریں گے جس سے سعودی عرب میں کرکٹ کو فروغ ملے گا اور یہ کرکٹ کمیونیٹیز کو آپس میں جوڑے گا۔
سعودی کرکٹ فیڈریشن کے صدر شہزادہ سعود بن مشعل بن محمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ یہ تعاون صرف سٹیڈیم کی تعمیر تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے مزید سرمایہ کاری بھی اس کا حصہ ہو گی۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جدہ میں موجود کرکٹ سٹیڈیمز میں مقامی سطح پر یا پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش کی کمیونٹیز پر مشتمل ایونٹس ہوتے رہتے ہیں۔
سعودی عرب میں گذشتہ برس کرکٹ فیسٹویل بھی ہوا تھا جس میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے موجودہ اور سابق کرکٹرز نے شرکت کی تھی۔
سعودی عرب اس سے قبل انڈین پریمیئر لیگ کی نیلامی کی تقریب کی میزبانی بھی کر چکا ہے اور گذشتہ برس متحدہ عرب امارات کی فرنچائز لیگ ’آئی ایل ٹی 20‘ (ILT20) کے ساتھ بھی اس نے شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔ سعودی تیل کمپنی ’آرامکو‘ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایک بڑی سپانسر ہے۔
ایم او یو کے تحت سعودی عرب کو کرکٹ کو ترقی دینے کے لیے چھ سٹریٹجک نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔
- جدہ میں بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر
- بڑے بین الاقوامی کرکٹ ٹورنامنٹس اور کھیلوں کی تقریبات کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کو مضبوط بنانا
- سرمایہ کاری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا اور سپورٹس سیاحت کو مضبوط بنانا
- مقامی ٹیلنٹ اور کھلاڑیوں، کوچز اور میچ آفیشلز کی تربیت
- کھیلوں کے شعبوں میں کمیونٹی کی شرکت
اس موقع پر دونوں کرکٹ بورڈز کے سربراہان میں جدہ کے شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی سٹیڈیم کا دورہ کیا اور وہاں کی سہولیات کا جائزء لیا۔
سعودی کرکٹ فیڈریشن کے مطابق بین الاقوامی کرکت سٹیڈیم کی تعمیر کے لیے اِسی سٹیڈیم کو اپ گریڈ کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سعودی عرب میں کرکٹ کی موجودہ صورتحال

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مطابق سعودی عرب کی کرکٹ ٹیم اس وقت ٹی 20 کی عالمی رینکنگ میں 28ویں نمبر پر ہے۔
آئی سی سی کے مطابق سعودی عرب کو سنہ 2003 میں آئی سی سی کا ’ایفیلیئیٹ ممبر‘ بنایا گیا تھا اور سنہ 2016 میں اسے ایسوسی ایٹ ممبر بنا دیا گیا۔ اُسی سال سعودی عرب باضابطہ طور پر ایشیئن کرکٹ کونسل کا 39واں مکمل رُکن (نان ٹیسٹ نیشن) بن گیا۔
سعودی کرکٹ ٹیم میں زیادہ تر پاکستانی اور انڈین نژاد کھلاڑی ہی شامل ہوتے ہیں اور اس ٹیم میں مقامی کھلاڑیوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔
آئی سی سی کے مطابق سعودی عرب میں 370 رجسٹرڈ کرکٹ کلب ہیں جن میں 7200 سے زائد کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں۔ یہاں 107 چھوٹے بڑے کرکٹ گراؤنڈ اور دو کرکٹ اکیڈمیز ہیں۔
سعودی عرب کی کرکٹ ٹیم سنہ 2024 اور سنہ 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل چکی ہے، لیکن یہ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی تھی۔
سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن نے رواں برس ٹی 20 لیگ کروانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے، جو اکتوبر 2026 میں ہو گی اور اس میں دُنیا بھر سے فرنچائز کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو شامل کیا جائے گا۔
Dunes T20 لیگ کا انعقاد سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن، ایک تفریحی کمپنی جسے ساؤتھ ایشین نیٹ ورک کہا جاتا ہے، اور دو سپورٹس ایجنسیوں، یونیک سپورٹس اور پرولتھک کے درمیان ایک معاہدے کے بعد کیا جا رہا ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ اس ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے جن انگلش کھلاڑیوں سے رابطہ کیا جائے گا، ان میں ایلکس ہیلز، جیسن روئے، جیمز ونس اور معین علی جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔
انڈیا کے سابق آل راؤنڈر یوراج سنگھ کو اس لیگ کا سفیر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس لیگ کا انعقاد جدہ کے قریب واقع چار ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے طائف کرکٹ گراؤنڈ میں ہو گا۔
کیا سعودی شہری کرکٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم سپورٹس مینجمنٹ کمپنی سے منسلک شاہ رُخ سہیل کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں کرکٹ ایک نیا کھیل ہے اور کسی نہ کسی حد تک سعودی شہری اس میں دلچسپی بھی لیتے ہیں۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور انڈین کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے اور جب وہ کرکٹ کھیلتے ہیں تو سعودی بھی ان کے ساتھ گُھل مِل جاتے ہیں۔
’کرکٹ کو فی الحال سعودی عرب میں ایک نیا کھیل یا باہر کا کھیل سمجھا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جس طرح پاکستان میں باسکٹ بال یا فٹبال ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں ہونے والی لیگ میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے سعودی عرب آنے سے بھی اس کھیل میں دلچسپی بڑھے گی۔
’ان (سعودی عرب) کے پاس مقامی مارکیٹ تو ہے جس میں جنوبی ایشیائی کھلاڑی اور مقامی کھلاڑیوں کا امتزاج ہے، لیکن اسے مزید وسعت دینا ایک طویل عمل ہے اور یہ ایم او یو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘
شاہ رُخ سہیل کا کہنا تھا کہ ایک نئے کھیل کو متعارف کروانا اور لوگوں کے اِس کھیل کی جانب راغب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے اس معاملے میں اُن کا زیادہ انحصار جنوبی ایشیائی کمیونٹی پر ہو گا۔
’جس طرح قطر اور امارات نے جنوبی امریکہ کے کھلاڑیوں کو اپنی فٹبال ٹیم میں شامل کیا، اسی طرح سعودی عرب یہاں بڑی تعداد میں آباد جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے کھلاڑیوں کو نیچرلائز کر کے کرکت کو فروغ دے سکتا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اب پاکستان اور سعودی عرب کرکٹ کے کھیل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
شاہ رُخ سہیل کا کہنا تھا کہ رواں برس اکتوبر میں چھ ٹیموں پر مشتمل ٹی 20 لیگ ہو رہی ہے جس میں انڈیا سعودی عرب کی معاونت کر رہا ہے اور اب انھوں نے سٹیڈیم کی تعمیر پر پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔