اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں دل کی بےترتیب دھڑکن (ہارٹ اریتھمیا) کے جدید اور معیاری علاج کے لیے امریکی ٹیکنالوجی پر مبنی پلسڈ فیلڈ ابلیشن (PFA) پروسیجر کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے مریضوں کو اب علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
پمز کے الیکٹرو فزیالوجی یونٹ کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات اور ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر اختر بندیشہ نے بتایا کہ پی ایف اے پروسیجر محفوظ، مؤثر اور مفت علاج کی سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس جدید طریقۂ علاج کے ذریعے تقریباً ایک گھنٹے میں مریض کی دل کی بےترتیب دھڑکن کو معمول پر لایا جاسکتا ہے۔
بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر عظمت حیات نے پمز میں اس جدید پروسیجر کو کامیابی سے انجام دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت مریضوں کو فالج اور دل کے دورے جیسے سنگین خطرات سے بھی بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ افراد دل کی بےترتیب دھڑکن کے مرض میں مبتلا ہیں۔
ڈاکٹر اختر بندیشہ کے مطابق اس جدید مشین کی مالیت تقریباً 80 کروڑ روپے ہے، جبکہ منصوبے پر مجموعی طور پر 7 ارب 25 کروڑ روپے لاگت آئے گی، جس سے ملک میں امراضِ قلب کے علاج کی جدید سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔