یونان اور لیبیا کے سمندر پاکستانیوں کا قبرستان، انسانی اسمگلرز کے خونیں کھیل کی لرزہ خیز دستاویزات جاری

image

موت کے سوداگروں کے چنگل میں پھنس کر یورپ کے سہانے خواب دیکھنے والے سینکڑوں پاکستانیوں کے لیے سمندری راستے ہولناک قبرستان بن گئے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری کردہ لرزہ خیز دستاویزات کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے کی کوشش میں اب تک 335 پاکستانی تارکینِ وطن سمندر کی لہروں کی نذر ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، جون 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 7 خوفناک اور مہلک کشتی حادثات رونما ہوچکے ہیں، لیکن اس خونیں کھیل اور مسلسل ہلاکتوں کے باوجود موت کے ان خطرناک راستوں پر سفر کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

انکشاف ہوا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے منظم اور بے رحم نیٹ ورکس معصوم شہریوں کو سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے سنسنی خیز ریکارڈ کے مطابق، جون 2023 میں یونان کے سمندر میں پیش آنے والے تاریخی اور المناک ترین کشتی حادثے میں 226 پاکستانی سوار تھے، جن میں سے ریکارڈ 207 تڑپ تڑپ کر جاں بحق ہوگئے اور صرف 19 افراد کی جان بچائی جاسکی۔ اسی طرح دسمبر 2024 میں یونان کی طرف بڑھنے والی ایک اور بدقسمت کشتی ڈوبنے سے 25 پاکستانی زندگی کی بازی ہار گئے، جبکہ 44 کو بچایا گیا۔

رپورٹ کے ہوش ربا اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 میں مراکش کے سمندروں میں 70 پاکستانیوں سے بھری کشتی حادثے کا شکار ہوئی، جبکہ فروری 2025 میں لیبیا کے قریب سمندر کی بے رحم موجوں نے ایک اور کشتی کو لپیٹ میں لیا، جس میں سوار 40 پاکستانیوں میں سے 23 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں اور 13 کو زندہ بچایا گیا۔

ایف آئی اے نے انتہائی تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ وہ ان سفاک انسانی اسمگلرز کے بچھائے گئے موت کے جال سے دور رہیں، کیونکہ 'ڈنکی' کے یہ غیر قانونی اور پراسرار راستے صرف اور صرف عبرتناک موت اور خاندانوں کی تباہی پر ختم ہوتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US