محترمہ شہید بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب سندھ حکومت کے صاف پینے کے پانی کے آر او پلانٹس (RO Plants) کے آپریٹرز نے کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمتیں مستقل نہ کیے جانے کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر شدید احتجاج کیا
سندھ آر او واٹر پلانٹ آپریٹر ایسوسی ایشن کے بینر تلے صوبائی صدر قاری خیر محمد راجپر، نائب صدر بادل ہالیپوٹو، سینیئر نائب صدر خان محمد راہو، جنرل سیکریٹری رجب علی سومرو اور فنانس سیکریٹری قاری محمد علی راجپوت کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں سندھ بھر کے اضلاع سے آئے ہوئے آپریٹرز نے شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ سال 2012ء سے اپنی ڈیوٹی نہایت ایمانداری سے سرانجام دے رہے ہیں اور 2021ء سے وہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازم ہیں، تاہم محکمہ پبلک ہیلتھ کی جانب سے کئی ماہ سے ان کے واجبات اور تنخواہیں روک رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ موجودہ بدترین مہنگائی کے دور میں صرف 25 ہزار روپے ماہانہ اجرت پر ان کے گھروں کا چولہا چلنا ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ وہ عوام کو 24 گھنٹے صاف پانی فراہم کرنے کی ڈیوٹی دیتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں اور مظاہرین نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر سلیم بلوچ اور سیکریٹری پبلک ہیلتھ سہیل احمد قریشی سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے بچوں کے حال پر رحم کھایا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ سندھ کے اعلانات کے مطابق ان کے لیے الگ بجٹ مختص کر کے 43 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ جاری کی جائے اور انہیں محکمہ پبلک ہیلتھ میں فوری طور پر مستقل (کنفرم) کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔